ہدایت الرحمن کو پابند سلاسل رکھنا اور ضمانت منظور نہ کرنا بڑی سازش ہے، حق دو تحریک
پنجگور (نامہ نگار) پنجگور حق دو تحریک کے ضلعی آرگنائزر ملا فرہاد ضلعی ترجمان منیر احمد سنجرانی جماعت اسلامی کے ضلعی امیر حافظ صفی اللہ بلوچ اور دیگر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 26 اکتوبر کو گوادر میں حق دو کی طرف سے جو ایک پرامن دھرنا کو زبردستی منتشر کرکے اس پر پولیس گردی کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت اور عوام کے سیاسی وجمہوری حقوقِ کو سلب کرنے کے مترادف فعل تھا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے جائز حقوق مانگنے پر حق دو تحریک کے قائد کو پابند سلاسل کیا گیا ہے اور اس کی ضمانت بھی نہیں ہونے دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکے برعکس عمران کے درجنوں مقدمات پر ضمانتیں ہوتی ہیں مگر حق دو کے قائد مولانا ہدایت الرحمن کو عوام کے جائز حقوق پر آواز اٹھانے کی پاداش میں بار بار عدالت سے ضمانت مسترد کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سپریم کورٹ آف پاکستان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مولانا ہدایت الرحمن کے ساتھ روا سلوک پر ایکشن لے اور مولانا کو رہا کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور ساتھ میں انسانی حقوق کی تنظمییں بھی اس زیادتی پر آواز اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا ہدایت الرحمن کے مطالبات اگر غیر قانونی تھے اور آئین اور قانون سے متصادم تھے تو پھر کیوں حکومت اور اسکے ذیلی ماتحت اداروں نے مولانا کے ساتھ مذاکرات کرکے انکے مطالبات کو جائز قراردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حق دو تحریک کے 900 کارکنوں پر کیس ڈالا گیا ہے مولانا اور ساتھیوں کو حراست کے دوران آہنی طور پر اذیت دی گئی، ہم سمجھتے ہیں کہ انکی ضمانت باربار منسوخ کرنے کے پیچھے بھی انتقامی سوچ ہوسکتی ہے، یکم مئی سے ہم گوادر کا رخ کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ بڑے مجرموں کی ضمانت ہوتی ہیں مگر عوام کے حقوق پر بات کرنے والوں کو جیلوں میں ڈالا جاتا ہے۔ انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ وہ عوام کا مزید امتحان نہ لے، حق دو تحریک حکومتی مظالم پر خاموش نہیں رہے گی۔ مولانا ہدایت الرحمن عوام کے ایک پاپولر لیڈر ہیں، انکو مسلسل پابند سلاسل رکھنا مزید اشتعال اور نفرت کا سبب بنے گا ۔


