گوادر پر مسلط استحصالی ٹولہ مجھے راستے سے ہٹانا چاہتا ہے، ہدایت الرحمن

گوادر ( آن لائن ) حق دو تحریک کے سربراہ مولاناہدایت الرحمان نے کہا ہے کہ مجھے راستے سے ہٹانے کے لیئے حربے استعما ل کیئے جارہے ہیں ،گوادر پر مسلط ٹولہ اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لیئے کسی بھی حدتک جاسکتا ہے انہوں نے کہاکہ گزشتہ روزایک وفدنے کوئٹہ میں جاکر کورکمانڈرسے ملاقات کی ہے یہی لوگ میری ضمانت کو باربار مستردکروارہے ہیں انہوں نے کہاکہ دو سال تک حق دو تحریک بلوچستان نے گوادر سمیت مکران بھر میں پرامن جدوجہد کے ذریعے لوگوں کو سیاسی شعور دیا اور عوام کو اپنے حقوق کے حصول کے لئے جمہوری مزاحمت پر راغب کیا۔ اس تحریک سے نہ صرف لوگوں کو حقیقی استحصالی طاقتوں سے شناسائی ہوئی بلکہ سیاسی شعبدہ بازوں، بھتہ خوروں، مافیا کے سرپرست، ٹرالرز اور بارڈر مافیا کے سہولت کار، عوام اور ماہیگیروں کے نام پر ذاتی مفادات حاصل کرنے والوں کی بھی پہچان ہوگئی جس کی وجہ سے عوام نے نہ صرف ان کو بری طرح مسترد کردیا بلکہ ان کے گھنا¶نے دھندوں کو بھی ماند کردیا۔ انہوں نے کہابلدیاتی الیکشن میں حق دو تحریک کی بھرپور کامیابی نے نہ صرف استحصالی قوتوں کے لئے خطرے کی گھنٹی بجادی بلکہ عوام کے نام پر مراعات حاصل کرنے والے جماعتوں اور تنظیموں کو بھی شدید ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا جس میں کچھ طاقتور حلقوں اور اداروں کے ساتھ گوادر پر چالیس سال سے مسلط ٹولہ بھی شامل تھا جن کے خود ساختہ بادشاہت کے خلاف عوام نے عَلمِ ِبغاوت بلند کیا اور ان کے مکروہ عزائم کو بے نقاب کیا۔ چونکہ بلدیاتی الیکشن میں شکست کے بعد ان طاقتوں اور مسلط ٹولے کو اپنا مستقبل تاریک ہوتا ہوا نظر آرہا تھا تو اپنے مفادات کو بچانے کے لئے اس عوامی تحریک کو کچلنے اور گوادر کے عوام سے بدلہ لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسی منصوبے کے تحت 26 دسمبر کو صوبائی حکومت، اس کے پس پردہ اتحادی اور اسٹیبلشمنٹ کے تعاون سے گوادر دھرنے کو بزور طاقت ختم کرنے اور عوام کو شدید تشدد اور قید و بند کے ذریعے خوفزدہ کرکے اس تحریک سے دور رکھنے کے لئے وزیر داخلہ کو آپریشن کی سربراہی کے لئے گوادر بھیجا گیا۔ اس کے بعد کیا ہوا وہ ساری دنیا نے دیکھ لیاانہوں نے کہا گوادر کے عوام اس واقعے کو اور اس سے جڑے عناصر کو زندگی بھر نہیں بھول سکتے۔26 دسمبر کے آپریشن، سینکڑوں مقدمات اور قید و بند سے بھی ان کا دل نہیں بھرا بلکہ ان طاقتوں نے مجھے بھی راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا جس کے بناءپر مجھے قتل کے جھوٹے مقدمے میں پھنسا کر جنرل الیکشن تک جیل میں رکھنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی انہوں نے کہاکہ اس کے لئے اس ٹولے نے باقاعدہ اسٹیبلشمنٹ اور صوبائی حکومت کی مدد و تعاون بھی حاصل کرلیا، میرے ضمانت کا بار بار مسترد ہونا اور مقدمات کو طول دینا دراصل اسی منصوبہ بندی کا حصہ ہے انہوں نے کہا جس کا واضح مثال گزشتہ دنوں گوادر سے ایک آشیرباد یافتہ وفد کا کوئٹہ میں کور کمانڈر سے ملاقات تھی اب میں ضلع گوادر کے تمام عوام، معتبرین، معززین، سماجی و سیاسی شخصیات کو بتانا چاہتا ہوں کہ گوادر پر مسلط ٹولہ اپنے شکست کا بدلہ لینے اور اپنے مفادات کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔ ہوسکتا ہے مجھے راستے سے ہٹانے کے لئے مزید حربے استعمال کئے جائیں اور لوگوں کو تحریک اور ان کے قائدین سے متنفر کرنے کے لئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے جائیں۔ مجھے اپنی زندگی کی فکر نہیں اور نہ ہی میں کبھی ان کے عزائم سے خوفزدہ ہوں گا اور نہ ہی سمجھوتہ کروں گا کیونکہ میں نے اپنی زندگی عوام کے لئے وقف کردی ہے اگر مجھے فکر ہے تو اپنے لوگوں کی، ان کے مستقبل کی اور ان کے حقوق کی فکر ہے۔اس لئے اگر اس ٹولے نے انتقام میں اندھا ہو کر کوئی بھی ایسا گھنا¶نا عمل کیا تو آپ سب لوگ اس کے خلاف مضبوط دیوار بنیں، بھرپور مزاحمت کریں اور عوام کے حقوق کے حصول تک پیچھے ہرگز نہ ہٹیں بلکہ جمہوری و آئینی جدوجہد سے اپنا بدلہ لے کر رہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں