بلوچستان میں جبری گمشدگی میں اضافے کیخلاف شال میں احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا، بلوچ یکجہتی کمیٹی

کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک)بلوچ عوام پر جبر و تشدد کے نہ رکنے والے سلسلے میں تشویشناک حد تک اضافہ لمحہ فکریہ ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران درجنوں بلوچ نوجوانوں کو جبری گمشدگی کا شکار بنایا گیا۔ حال ہی میں بلوچستان کے مختلف علاقے مستونگ ، خضدار ، پنجگور اور آواران میں غیر قانونی طور پر کئی افراد کو زیر حراست میں لیا گیا ہے۔ خضدار سے دو دن قبل ایک پرائیویٹ اسکول ٹیچر اور ایگرکلچرل یونیورسٹی فیصل آباد سے گریجویٹ طالبعلم جاوید بلوچ کو اپنے دوکان سے لاپتہ کیا گیا۔ جبکہ خضدار سے حالیہ دنوں سات افراد سمیت طالبعلم نصیب اللہ بلوچ کو اپنے چھوٹے  بھائی کے ہمراہ جبری گمشدگی کا شکار بنایا گیا۔ نصیب اللہ بازیاب ہوگئے ہیں لیکن ان کے بھائی اور دیگر افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ اس کے علاوہ خضدار ہی سے دو اور طالبعلم عنایت زہری اور مرتضی زہری کو جبری طور پر گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا۔ یاد رہے مرتضی زہری اس سے قبل تین مرتبہ جبری گمشدگی کا شکار ہوچکے ہیں۔اس کے علاوہ آواران میں دو بھائیوں کو جبری گمشدگی کا شکار بنایا ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ایک درجن سے زائد لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا جو کہ نہایت ہی تشویشناک ہے۔ لاپتہ افراد کا مسئلہ کم ہونے کی بجائے دن بہ دن بڑھتا اور مزید پیچیدہ ہوتا جارہا ہے۔ بلوچ عوام پر ظلم و جبر دن بہ دن بڑھتی جارہی ہیں اور ملک کے کسی بھی آئینی ادارے اور عدالت میں اتنی جرات نہیں جو کہ ان غیر انسانی اور غیر قانونی اقدامات سے روکیں۔ بلوچستان بھر میں دنیا کی کوئی بھی قانون لاگو نہیں ہوتا بس طاقتور اپنے طاقت کے نشے میں بلوچ قوم کی بلاتفریق نسل کشی میں مصروف ہے۔ بلوچستان حکومت اور مین اسٹریم سیاسی جماعتیں بلوچ نسل کشی پر خاموش مگر مجرمانہ کردار ادا کر رہے ہیں۔  بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سےبلوچ عوام پر بڑھتے ہوئے ظلم و جبر اور جبری گمشدگیوں کے خلاف 9 مئی بروز منگل کوئٹہ پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔ کوئٹہ بھر کے بلوچ عوام اور انسان دوست افراد سے درخواست ہے کہ اس ظلم و جبر اور لاقانونیت کے خلاف احتجاجی ریلی میں شرکت کرکے اپنی آواز بلند کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں