سراج الحق قافلوں کی صورت میں اسلام آباد سے گوادر لانگ مارچ کا اعلان کریں ، ہدایت الرحمن

گوادر : سراج الحق اسلام آباد سے گوادر لانگ مارچ کا اعلان کریں اور قافلوں کی صورت میں نکلیں، گوادر اور بلوچستان کے عوام شدید مشکلات اورغم و غصے میں ہیں اور ان کی دادرسی صرف ایک آئینی جدوجہد اور جمہوری مزاحمت سے ہی ممکن ہے،انصاف کے حصول کے لئے سپریم کورٹ کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا۔ ان خیالات کا اظہار مولانا ہدایت الرحمن نے امیر جماعت اسلامی سراج الحق کے نام کھلا خط جاری کرتے ہوئے کیا، خط کے متن میں انہوں نے کہاحق دو تحریک بلوچستان کے آغاز ہی سے آپ کی حمایت و تائید حاصل رہی اور جب بھی حکومت کی جانب سے مشکلات پیش آئیں تو آپ نے ایک بڑے کی حیثیت سے ہماری معاونت بھی کی اور حوصلہ بھی دیا۔انہوں نے کہا گوادر میں 26 دسمبر 2022 کے آپریشن کے بعد مشکل حالات میں آپ نے بھرپور ساتھ دیا اور پورے ملک میں اس ظلم کے خلاف احتجاج کی کال بھی دی۔ اس کے علاوہ اپنے قیمتی اوقات میں سے وقت نکال کر بذات خود گوادر بھی تشریف لائے اور ہماری حوصلہ افزائی کی۔ ہمارے لئے انصاف کے حصول کے لئے سپریم کورٹ کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا۔ لیکن اندھے بہرے گونگےحکمران ٹس سے مس نہیں ہوئے اور ان کی جانب سے انتقامی کاروائیوں کا سلسلہ سیکیورٹی اداروں اور عدالتوں کے ذریعے اب بھی جاری ہیں۔لیکن اندھے بہرے گونگےحکمران ٹس سے مس نہیں ہوئے,مجھ سمیت حق دو تحریک کا ہر کارکن اور بلوچ عوام منتظر ہے کہ آپ ان کے لئے کب لانگ مارچ کا اعلان کریں گے۔ اگر لانگ مارچ اسلام آباد سے نکل کر بلوچستان میں داخل ہوا تو آپ کو ہر چوک اور سڑک پر مظلوم بلوچ استقبال کرتے نظر آئیں گے,آپ سمیت جماعت اسلامی کے ذمہ داران و کارکنان گوادر کے لئے بھی ایک دن وقف کردیں۔ یہ ایک دن آپ کے اور کے کارکنان کے لئے سنہرے الفاظ میں لکھے جائیں گے۔ آپ اور آپ کے تمام ذمہ داران و کارکنان ایک دن کے لئے گوادر کے اس جگہ دھرنا دیں جہاں سے ہمیں زبردستی ریاستی طاقت کے زور پر تشدد کرکے اٹھایا گیا تھا۔ یقین رکھیں یہ دھرنا نوید انقلاب ہوگی اور آپ لوگوں کی آمد سے بلوچ قوم، لاپتہ افراد کے لواحقین، بلوچستان کے مظلوم و محکوم عوام کے لئے حوصلہ اور ہمت کا سبب ہوگی,اگر ملک میں قانون کی حکمرانی ہوتی تو میری جگہ قدوس بزنجو جیل میں ہوتے، منشیات فروش ، ٹرالرز مافیا، بھتہ خور، کرپشن کرنے والے، قومی وسائل کو لوٹنے والے جیل میں ہوتے۔ جب یہاں قانون کی زبان کوئی نہیں سمجھتا تو انھیں عوامی طاقت کی زبان سے جواب دینے کی ضرورت ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومت کی پوری توجہ صرف قومی خزانے کی لوٹ مار پر ہے عوام اور ان کے مسائل کی جانب کوئی توجہ نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں