ریاستی اداروں کی توہین اور پرتشدد کارروائیاں غیرمہذب عمل ہے، مجلس وحدت مسلمین
کوئٹہ (آن لائن) مرکزی سیکرٹری تنظیم مجلس وحدت مسلمین پاکستان مقصود علی ڈومکی نے ریاستی اداروں کی توہین اور پرتشدد کارروائیوں کو غیرمہذب عمل قراردیتے ہوئے ان پرتشدد واقعات کے ذمہ داروں کے تعین کیلئے جوڈیشنل انکوائری کا مطالبہ کیا ہے ۔یہ بات انہوں نے مجلس وحد ت مسلمین پاکستان کے شوری کے رکن و سابق صوبائی وزیرقانون آغا سید محمد رضا،علامہ شیخ ولایت حسین جعفری ، ارباب لیاقت علی ہزارہ ، سید ابراہیم شاہ اوردیگر کے ہمراہ اتوار کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان وطن عزیز پاکستان میں قانون کی بالادستگی پریقین رکھتی ہے جس کا عملی مظاہرہ ہم کئی دہائیوں سے کرتے آرہے ہیں ہم ملک میں آئین اورقانون کی بالادستی چاہتے ہیں بیرونی سامراجی ممالک کی مداخلت کے نتیجے میں جو رجیم برسراقتدار لائی گئی اس نے آئین پاکستان کو پامال کرتے ہوئے الیکشن سے راہ فرار اختیارکی 90دن میں انتخابات آئین کا تقاضا ہے جسے مختلف بہانے بناکر مسلسل نذرانداز کیا گیا صوبہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں اب نگران حکومتوں کی معیاد ختم ہوچکی ہے جس کے باعث وہ غیرآئینی اورغیرقانونی حکومتیں ہونگی اس لئے ملک میں نیا بحران جنم لے گا ملک کو بحرانوں سے نکالنے کاواحد حل عام انتخابات ہیں ایسے آزادانہ شفاف انتخابات جس میں پاکستان کے عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں مگر ووٹ کو عزت دو کے دعویدارعوام اورعوام کے ووٹ سے شدید خوفزدہ نظرآتے ہیں پاکستان کے موجودہ بحران کا واحد حل جلد الیکشن اورآئین اورقانون کے احترام میں ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے سیاسی بحران کے بعدآئین شکن امپورٹڈ نا اہل حکومت کی پالیسیوں کے باعث معاشی بحران انتہائی سنگین ہوچکا ہے الیکشن کے ذریعے عوام کے منتخب نمائندوں کے برسراقتدار آنے سے ملک معاشی صورتحال بہتر ہوسکتی ہے مجلس وحدت مسلمین ملک میں آئین اورقانون کی بالادستی کیلئے سپریم کورٹ کی پشت پر کھڑی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ کوئی بھی شخص یاادارہ قانون سے بالاتر نہیں ہے سپریم کورٹ کو دھمکیاںدینے والے آئین شکن افراد اور جماعتوں کے رویے سے ملکی حالات مزید خراب ہونے کا اندشہ ہے ہم قائد وحت مسلمین علامہ راجہ ناصرعباس جعفری کی حکم پرپورے ملک میں آئین پاکستان اورعدلیہ کی حمایت میں پرامن احتجاج ریکارڈ کروارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم ریاستی اداروں کی توہین اور پرتشدد کارروائیوں کو غیرمہذب عمل سمجھتے ہیں ہم ان پرتشدد واقعات کے ذمہ داراوں کے تعین کیلئے جوڈیشل انکوائری کامطالبہ کرتی ہیں سپریم کورٹ کی زیرنگرانی غیرجانبدارانہ انکوائری کے ذریعے قوم کو یہ بتایا جائے کہ قومی املاک یافوجی تنصیبات کو نقصان پہنچانے کے اصل ذمہ دار کون ہیں؟ اورانہیں قانون کے مطابق سز دی جائے ۔انہوں نے جس طرح عمران خان کو گریبان سے پکڑ کر گرفتار کیا گیا ور پھرملک بھر میں پرامن احتجاج کرنے والے سیاسی رہنماوں اور خواتین کو جھوٹے مقدمات اور ایم پی او کے تحت بلاجواز گرفتارکیا گیا انہیں فوریطورپر رہا کیا جائے۔


