بلوچستان ہائیکورٹ نے گیس بلوں میں اضافی چارجز وصول کرنے سے روک دیا
کوئٹہ : بلو چستان ہا ئیکورٹ کے جسٹس جناب جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس جناب جسٹس سردار احمد حلیمی پر مشتمل بنچ نے صارفین کو بھیجی جا نے والی پریویس بیلنس،اسٹینڈرڈ و دیگر غیر قانونی چا رجز کو فو ری طو ر پر گیس بلوں سے نکال کر انہیں نئے بلز بھیجنے کا حکم دیتے ہو ئے سیکرٹری پیٹرولیم، چیئر مین اوگرا اورمنیجنگ ڈائریکٹر سوئی سدرن گیس کمپنی کو اگلی سماعت پر طلب کر لیا ہے۔ سما عت کے دوران درخواست گزار سید نذیر آغا ایڈووکیٹ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل رف عطا،سوئی سدرن گیس کمپنی کے سنیئر وکیل محمد اعجا ز، فرید اللہ کاکڑ،زین العابدین،اوگرا کے حکام و دیگر بھی پیش ہو ئے جبکہ صارفین کی بھی بڑی تعداد عدالت میں مو جو د تھی۔ گزشتہ روز سنیئر قانون دان سید نذیر آغاایڈووکیٹ کی جا نب سے بلو چستان میں گیس لوڈشیڈنگ،پریشر میں کمی،اوور بلنگ اور نت نئے چا رجز بھیجنے سے متعلق دائر آ ئینی درخواست کی سما عت شروع ہو ئی تو درخواست گزار نے بنچ کو بتا یا کہ ما ہ اپریل کے بلوں میں بھی کمپنی کی جا نب سے صارفین کوپریویس بیلنس، اسٹینڈرڈ چارجز د ویگر کی مد میں بھا ری بھر کم بلز بھیجے گئے ہیں بنچ کے ججز نے ریما رکس دئیے کہ کمپنی حکام کی جا نب سے بتا یا جا رہا ہے کہ بلو چستان سے 70فیصد ریکوری ہو ئی ہے بلو چستان میں صارفین کو، پریویس بیلنس، اسٹینڈرڈ، سلو میٹر، آدر چا رجز جیسے مختلف ناموں سے نت نئے چا رجز بھیج کرریکوری کی جا تی ہیں بلکہ صارفین کی غیر مو جو دگی میں میٹر ز اتار کر انہیں لیبا رٹری کیا جا رہا ہے جو درست اقدام نہیں، صارفین کو گیس بلوں میں بھیجے گئے پریویس بیلنس،اسٹینڈرڈ سلو میٹر ، آدر چا رجز جیسے دیگر غیر قانونی چارجز کو فو ری طور پر بلوں سے منہاں کر کے نئے بلز بھیجے جا ئیں ،بنچ نے ہدایت کی کہ کسی بھی صارف کے گیس میٹر اتارنے سے پہلے انہیں نو ٹس بھیجا جا ئے اور صارفین کی مو جو دگی میں میٹرز لیبا رٹری کئے جا ئیں بنچ نے سما عت کے موقع پر عدالت میں مو جو د صارفین کے نا م رجسٹر،ایڈریس، را بطہ نمبر و دیگرتفصیلات درج کر کے ان کی شکا یا ت کے ازالے کی بھی ہدایت کی بنچ کے ججز نے متعلقہ حکام سے استفسار کیا کہ بتا یا جا ئے کہ بلو چستان میں گیس صارفین کے ساتھ امتیا زی سلوک کیونکر روا رکھا جا رہا ہے بتا یا جا ئے کہ بلو چستان سے کتنی مقدار میں گیس نکا لی جا رہی ہے اسے کس قیمت پر خرید کر دوبا رہ صارفین کو کس قیمت پر فرا ہم کی جا رہی ہے سما عت کے دوران عدالت کو بتا یا گیا کہ ماضی میں کو تا ئیاں ہو ئی ہیں جن کے ازالے کی کو شش کی جا رہی ہے مگرملک کی صورتحال سب کے سامنے ہیں گیس کی قیمتوں میں اضا فہ آ ئی ایم ایف کی شرائط کے تحت کیا گیا ہے جسٹس سردار احمدحلیمی نے ہدایت کی کہ گیس کمپنی شکا یا ت کے ازالے کے لئے سریا ب اور کچلاک کے علا قوں میں ڈیسک قائم کریں گیس کی کمی کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ کا کہا جا رہا ہے مگر دنیا میں ایسے مما لک میں بھی صارفین کو رعایتی نرخوں پر گیس کی سہولت میسر ہے جہاں سے قدرتی گیس نکلتی ہی نہیں ہے درخواست گزار سید نذیر آغا ایڈووکیٹ نے کہا کہ ملک کے بڑے شہروں میں کمپنی کی جا نب سے ٹیمپرنگ و دیگر مدات میں اتارے گئے میٹرز کی تفصیلا ت طلب کر کے ان کی بلو چستان سے موازنہ کیا جا ئے تا کہ معلوم ہو سکے میری نظر میں ٹیمپرنگ کے نا م پر میٹرز اتار کر بلو چستان میں صارفین کے ساتھ زیا دتی کی جا رہی ہے۔ جسٹس محمد کا مران ملاخیل نے ریما رکس دئیے کہ آ ئین کے آرٹیکل 158کی خلا ف ورزی ہو رہی ہے بلو چستان کی گیس ضروریات پو ری نہیں ہو پا رہی یکم جو ن 1954کو ہو نے والے معاہدے کو پیش کیا جا ئے اور بتا یا جا ئے کہ بلو چستان میں گیس لوڈشیڈنگ، پریشر میں کمی اور اوور بلنگ کے مسائل کیسے حل کئے جا سکتے ہیں عدالت نے سیکرٹری پیٹرولیم، چیئر مین اوگرا اورمنیجنگ ڈائریکٹر سوئی سدرن گیس کمپنی کو اگلی سماعت پر طلب کر تے ہو ئے آئینی درخواست کی سما عت 19جو ن تک ملتوی کر دی۔


