عالمی اداروں کے تعاون سے بلوچستان کے 4اضلاع میں کاشتکاروں کو چاول کے مفت بیج کی فراہمی
کوئٹہ : سیکرٹری زراعت امید علی کھوکھر نے کہا ہے کہ بلوچستان کے 4اضلاع میں کاشتکاروں کو چاول کے مفت بیج کی فراہمی شروع کردی گئی ہے اور31مئی تک 60ہزار کاشتکاروں کو بہترین چاول کابیج فراہم کردیا جائے گا ،محکمہ زراعت زمینداروں کے مسائل حل کرنے کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لارہا ہے کاشتکاروں کوبھی چاہئے کہ وہ زراعت کے جدید طریقوں کو اپناکر پیداوار میں اضافہ کریں ۔یہ بات انہوں نے منگل کو نصیرآباد ڈویژن میں ایشیئن ڈویلپمنٹ بینک کی مدد اور ایف اے او کے تعاون سے کاشتکاروں کو چاول کے مفت بیج فراہم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔تقریب سے ڈی جی زراعت عرفان علی بختیاری ، ایف اے او بلوچستان کے چیف ولید مہدی،ایشیئن ڈویلپمنٹ بینک پاکستان کے بنارس خان،ڈپٹی کمشنر نصیرآباد عائشہ زہری ، پروجیکٹ آفیسر ایف اے او وحید انور ،محکمہ زراعت کے ترجمان عبدالکریم جعفرنے بھی خطاب کیا ۔سیکرٹری زراعت امید علی کھوکھر نے ایف اے آو ،ایشیئن ڈویلپمنٹ بینک ،ضلعی انتظامیہ ،محکمہ راعت کے افسروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے دن رات محنت کرکے اس کاوش کو کامیابی سے تکمیل کے آخری مراحل تک پہنچایااس پروجیکٹ میں 60ہزار کاشت کاروں کو مفت چاول کا بیج 31مئی سے قبل دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے سیلاب کے بعد حکومت بلوچستان نے اپنی مدد آپ کے تحت 2.2ارب روپے کا گندم کا بہترین بیج پورے صوبے میں مفت تقسیم کیا جس کا ثمر اللہ کے فضل سے یہ ملا کہ تاریخ میں پہلی دفعہ اپنی ضرورت سے تقریبا ً ایک لاکھ میٹرک ٹن زائد گندم پیدا کرکے بلوچستان نے تاریخ رقم کی محکمہ خوراک کے مطابق صوبے کی ضرورت 15لاکھ میٹرک ٹن ہے جبکہ موجودہ حکومت باالخصوص صوبائی وزیر زراعت میراسداللہ بلوچ کی کاوشوں سے اس دفعہ بلوچستان میں 16لاکھ میٹرک ٹن گندم پیدا ہوئی ہے جس کی بدولت امید کی جاسکتی ہے کہ صوبے میں گندم کی قلت نہیں ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ زراعت نے گندم میں خود کفالت کے بعد شعبہ آن فارم واٹرمینجمنٹ کے ذریعے سولر ٹیوب ویل ،سولر پینل مہیا کرنے کے سلسلے میں ایشیئن ڈویلپمنٹ بینک کے تعاون سے پورے بلوچستان کیلئے ایک منصوبے کو شروع کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ چاراضلاع جعفرآباد،نصیرآباد،اوستہ محمداور صحبت پورمیں چاول کا بہترین بیج بروقت مہیا کیاجارہا ہے اور یہ کام 31مئی سے قبل مکمل کرلیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال سیلاب اور شدید بارشوں کی وجہ سے کسانوں اورکاشتکاروں کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا تھا محکمہ زراعت کی جانب سے کاشتکاروں کو مفت چاول کے بیج کی فراہمی سے کاشتکاروں کو دوبارہ اپنے پا¶ں پر کھڑا کرنے میں مدد ملے گی ۔انہوں نے محکمہ زراعت کے افسران پرزوردیا کہ اپنی محنت کو مزید بڑھائیں تاکہ زمینداروں کی زیادہ سے زیادہ خدمت کی جاسکے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ولید مہدی، بین الاقوامی پروگرام کوآرڈینیٹرایف اے او بلوچستان نے کہا کہ ایف اے او بھوک، غذائی عدم تحفظ اور غذائی قلت کے خاتمے کے لیے رکن ممالک اور وسائل کے شراکت داروں کے ساتھ عالمی سطح پر کام کر رہا ہے ایف اے او حکومت بلوچستان کے ساتھ قریبی ہم آہنگی میں اور جاپان فنڈ فار پراسپیرس اینڈ ریسیلیئنٹ ایشیا اینڈ دی پیسیفک (جے ایف پی آر) کے تعاون سے چار اضلاع نصیر آباد، جعفرآباد، اوستہ محمد اور صحبت پور میں سیلاب سے متاثرہ آبادی کے ذریعہ معاش اور غذائی تحفظ کی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نصیر آباد عائشہ زہری اور ڈائریکٹر جنرل زراعت توسیع جناب عرفان علی بختیاری نے کہا کہ پاکستان بالخصوص بلوچستان میں آنے والے سیلاب نے گھرانوں کے نقصانات کو بڑھا دیا اور زراعت کے شعبے کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے حکومت بلوچستان اور ایف اے او نصیر آباد ڈویژن کے چھوٹے کاشتکاروں کی مدد کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں ایشیائی ترقیاتی بینک کے بین الاقوامی فوڈ سیکیورٹی اسپیشلسٹ بنارس خان نے کہا JFPR گرانٹ کا شکریہ جس کے ذریعے ADB 50 لاکھ امریکی ڈالر کی کل رقم کے ساتھ 60,000 انتہائی کمزور اور خوراک سے محروم چھوٹے کسانوں کی مدد کر رہا ہے۔ اس کا مقصد غذائی تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے نصیر آباد ڈویژن، بلوچستان میں متاثرہ کمیونٹیز کو فوری مدد فراہم کرنا ہے جس میں لچک کو مضبوط کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔


