بلوچ سمیت محکوم اقوام کے وسائل کو لوٹنے کیلئے آئین کو بطور ہتھکنڈے کے استعمال کیا گیا، این ڈی پی
کوئٹہ (پ ر) بلوچ سمیت محکوم اقوام کے وسائل کو لوٹنے کیلئے آئین کو ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ سپریم کورٹ کو فیصلے کو 9 سال بعد سپریم کورٹ کے آریعے مسخ کرنا ریاستی جبر کے مترادف ہے۔ نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی نے عدلیہ کے کردار کے حوالے سے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے اپنے ہتھکنڈے کے طور پر محکوم قوم کیخلاف استعمال ہوئے ہیں جبکہ وہی آئین جب استعماری قوتوں کے سامنے رکاوٹ بنا تو اس میں ترمیم کر کے یا مکمل طور پر روندھ کر اس رکاوٹ کو دور کردیا گیا، جس کی مثال سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے 9 دسمبر 2022ءکو بلوچستان حکومت اور کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ کارپوریشن کے درمیان طے پانے والے ریکوڈک معاہدے کو قانونی قرار دینا تھا۔ اس معاہدے کی تصدیق کا مقصد 2013ءحکم نامہ جو سابقہ چیف جسٹس افتخار چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بیچ نے بیرک گولڈ اور انسٹا گوفٹا کمپنی کے خلاف دیا تھا اس کی اہمیت کو ختم کر دینا تھا۔ ایک کمپنی کے کمپنی قوانین کی خلاف ورزی کے پیش رو جو حکم نامہ سپریم کورٹ سے منظور ہوا تھا اسے نو سال بعد اسی سپریم کورٹ نے تبدیل کر کے لوٹ مار کی راہ کو ہوار کیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کو نظر انداز کر کے اسکے برخلاف فیصلہ دینا خود غیر آئینی ہے لیکن اس وقت پاکستان کی تمام پارلیمانی پارٹیوں بشمول پی پی پی، پی ٹی آئی، ن لیگ، جمعیت نے یک مشت ہو کو چیف جسٹس کے اس عمل کی حمایت کرتے ہوئے اسے خوش آئندہ قرار دیا۔ مگر وہی چیف جسٹس جب آج عمران خان کی سپورٹ کرنے کے لیے الیکشن نہیں کروا رہا، اسے ضمانت دلوانے میں معاورنت فراہم کررہا ہے، تو اس عمل کو سپریم کورٹ کی بالادستی اور پارلیمینٹ کی سپرمیسی پر سمجھوتہ بازی قرار دیا جارہا ہے۔ ان پارلیمانی جماعتوں کو اب یاد آرہا ہے کہ ایک شخص کو سہولت فراہم کرنے میں آئین کو روندھا جارہا ہے جبکہ دس دسمبر 2022ءکو بلوچستان کی معدنیات کو غیر آئینی اور غیر قانونی طریقے سے وفاق کے سپرد کردیا گیا، یعنی جب بلوچ ساحل وسائل کی لوٹ مار ہوتی ہے اور آئین میں اس کے بر خلاف کوئی شک موجود ہو تو اسے راتوں رات مسخ کیا جاتا ہے تو کسی بھی سیاسی جماعت میں یہ جرا¿ت نہیں ہوتی کہ اس کیخلاف اشارہ کرسکے اور جب وہی حالات خود پر آ گئے تو آئینی بھی یاد آرہا ہے اور قانون بھی۔ لہٰذا آئین پہلے دن سے ہی بوٹوں تلے روندھا جارہا تھا اور یہ ریاست ایک سیکورٹی ریاست بن چکی ہے، جو بلوچ و دیگر محکوم اقوام پر ظلم و زیادتیوں کی ہی وجہ سے آج یہ ملک ڈیفالٹ کے خطرے سے دوچار ہے۔


