گندم کو زبردستی سرکاری گوداموں میں آن لوڈ کیا جارہا ہے، نقل و حمل پر پابندیاں ختم کی جائیں، پاکستان فلور ملز
کوئٹہ (آن لائن) پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عاصم احمد رضا نے کہا ہے کہ ملک بھر مےں 18وےں ترمےم کے بعد فوڈ صوبوں کو منتقل ہوئے ہیں اس کو وفاق کی سطح پر اٹھاتے ہوئے ملک بھر مےں گندم اور آٹے کی ےکساں قےمت مقرر کی جائے تاکہ عوام کو سستے داموں آٹا مےسر آسکے گندم کی نقل حرکت پر ملک بھر میں پابندی ہٹا کر انڈسٹری کو آزادنہ کاروبار کی اجازت دی جائے،9مئی کا واقعہ ملک کی سالمیت اور امن کے لئے خطر ناک ہے ۔ان خےالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کوچاروں صوبوں کی ملز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں بدرالدےن کاکڑ ،لالا عبدالواحد بڑےچ مےاں رےاض سمےت دےگر کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کےا۔ انہوں نے 9مئی کو ہو نے والے نا خوشگوار واقعات کی پر زور مذمت کر تے ہوئے کہا کہ افواج پاکستان ملک کی سرحدوں کی حفاظت اور تخریب کاری کے خلاف اہم کر دار ادا کر رہی ہے ہم شہد اکو سلام پیش کر تے ہیں ۔ پاکستان فلور ملز ایسو سی ایشن کے اجلاس میں چاروں صوبوں کی فلور ملز انڈسٹری کو درپیش مسائل کا جائزہ لیا گیا ، فلو ملز انڈسٹری کو اپنی روزانہ کی ضروریات پوری کر نے کے لئے گندم کے حصول میں مشکلات کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے ۔ سر کا ری گندم کی خریداری کو جواز بناکربین الصوبائی اوربین اضلاع نقل و حمل پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں فلور ملز کی خرید کر دہ گندم کی گاڑیوں کو زبر دستی سرکا ری گوداموں میں آن لوڈ کیا جارہا ہے ماضی میں حکومتی اداروں کے ساتھ ساتھ فلور ملز خرید اری اور ذخیرہ کر تی تھیں جس کو مارکےٹ میں آٹے کی سپلائی میں توازن برقرار رکھنے کے لئے استعمال کیا جا تا رہا ہے ۔ گزشتہ سال پنجاب میں محکمہ خوراک نے 45لاکھ ٹن گندم خریدی جبکہ فلور ملز نے 16سے 18لاکھ ٹن گندم اسٹاک کی جبکہ اس سال محکمہ خوراک نے 36لاکھ ٹن اور فلو رملز صرف 5سے 6لاکھ ٹن گندم خر ید سکی ہے۔ انہوں نے کہاکہ محکمہ خوراک کی نا قص پا لیسیوں کی وجہ سے اوپن مارکیٹ میں گندم کے نرخ انتہائی بلند سطح تک پہنچ گئے ہیں ۔ سندھ میں بھی حالت کچھ اچھے نہیں ہے کراچی میں اندورون سندھ سے گندم لانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جس کی وجہ سے فلور ملز کو اپنا کاروبار چلانا مشکل ہو رہا ہے بیشتر فلور ملز بند ہو چکی ہےں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان فلور ملز ایسو سی ایشن کے اجلاس میں مشترکہ طورپر فےصلہ کےا گےا ہے کہ آئین پاکستان کے مطابق فلور ملز انڈسٹری کو ملک بھر میں آزادانہ کاروبار کر نے کی اجازت دی جائے ، گندم اور گندم کی مصنوعات کی آزادانہ نقل و حمل پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں۔ انہوں نے کہاکہ گندم کو صوبائی چیپٹر سے نکال کر ما ضی کی طرح وفا ق میں شامل کیا جائے ، ملک بھر میں گندم اور آٹے کے یکساں نرخ مقرر کئے جائیں ، گندم کی امپورٹ اور اسکی مصنوعات کی ری ایکسپورٹ کی اجاز ت دی جائے تاکہ باہر سے گندم منگوا کر آٹے کی شکل مےں دوبارہ اےکسپورٹ کےا جائے اور ملک کے زرمبا دلہ حاصل کےا جاسکے گندم کی نقل حمل پر پابندےوں کی وجہ سے گندم اور آٹے کی قےمت مےں اضافہ ہو رہا ہے اور غرےب عوام کو سستے داموں آٹا مےسر نہےں۔


