خضدار پھر پُرانی ڈگر پر،، سانحہ ڈنک کیخلاف احتجاجی ریلی،خواتین و بچوں کی شرکت

خضدار(اقبال مینگل +عدنان بلوچ) ڈنک سانحہ کے خلاف برمش یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی۔ خواتین وبچوں کی بڑی تعداد میں شرکت۔ زبردست نعرہ بازی۔ خضدار کی پرانی روایات کو دہرایاگیا تفصیلات کے مطابق عید کے بعد تربت کے علاقہ کیچ ڈنک میں افسوسناک واقعہ پیش آیاتھا کہ جہاں مسلح افراد گھر میں ایک بلوچ خاتون کو شہید اور معصوم برمش کو شدید زخمی کردیاتھا جس کے خلاف پورا بلوچستان سراپا احتجاج ہے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اس واقعہ کے خلاف مسلسل احتجاج ومظاہرے جاری ہیں۔ مذکورہ واقعہ کے خلاف خضدار میں یہ دوسرا احتجاج ہے جو کہ ٹائن ہال سے نکل کر مختلف جگہوں سے ہوتے ہوئے آزادی چوک پر اختتام پذیر ہوا جہاں پر مقررین عمران بلوچ، پروفیسر مان منصور، خالد بلوچ،حفیظ بلوچ،جویریہ بلوچ،شفیق الرحمن، خالدہ بلوچ، زلیخہ بلوچ، نادر بلوچ اور فضل یعقوب بلوچ نے شرکا سے خطاب کیا۔ انہوں نے ملوث عناصر کو فوری کیفرکردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا اور بلوچستان میں مزید خون کی ہولی کھیلنے کا سلسلہ بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے استعفی کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے کیچ واقعہ کے خلاف سخت نعرہ بازی کی۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا کہ برمش کو انصاف دو، بلوچستان میں دھشت گردی بند کرو۔ بابا یہ بندق والے انکل کون ہے؟واضح رہے کہ آج اورناچ میں بھی شہریوں نے ڈنک واقعہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس ظلم کے خلاف خضدار کے شہریوں نے بڑی تعداد میں نکل پرانی یادیں تازہ کردی ہیں کہ جب بھی بلوچستان کی کسی جگہ میں کوئی ظلم وزیادتی ہوتی تو سب سے پہلے توانا آواز خضدار سے بلند ہوتی لیکن گزشتہ کچھ عرصہ سے خضدار جھالاوان پر ایک ایسا سکوت طاری ہوا تھا کہ ان کے اپنی بقا خطرے میں پڑھ گئی تھی تاہم آج کی ریلی نے پرانی یادیں تازہ کرتے ہوئے یہ ثابت کردیاکہ اہلیان خضدار زندہ ہیں ظلم وناانصافیوں کے خلاف خاموش رہنے والے نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں