بلوچستان کو کالونی کے طرز پر چلانے کی پالیسی ختم کی جائے ، اسداللہ
کوئٹہ :صوبائی وزیر زراعت راجی راہشوں، میر اسداللہ بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان کو کالونی کی طرز پر چلانے کی پالیسی ترک کر کے مثبت پالیسی اختیارکرتے ہوئے بلوچستان کے وسائل پر لوگوں کو دسترس دیتے ہوئے مسائل کے حل کو یقینی بنا کر تعلیم صحت روز گار فراہم کرنا ہوگا صاف اور شفاف انتخابات کرا کر حقیقی نمائندوں کو ایوان میں بھیج کر پیراشوٹر کا راستہ روکنا ہوگا اور وفاق کو بلوچستان کے حوالے سے اپنی پالیسی اور سوچ بدلنا ہوگی سیلاب میں نقصانات کے ازالے اور وزیراعظم کے اعلان کردا فنڈز نہیں ملے اس وقت بھی پی پی ایل اور این ایف سی کے 50ارب روپے سے زائد واجب الادا ہیں ہم نے صوبے کے 34اضلاع کے کسانوں کو 4لاکھ بوریاں گندم کا بیج دیا ہے جس کی وجہ سے اس سال صوبے میں بھی ہدف سے زیادہ گندم پیدا ہوئی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو بلوچستان ایگریکلچر آفیسر ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام مقامی حال میں فور ٹائر سروس اسٹریکچر کی منظوری کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے اظہار خیال کرتے ہوئے کیا تقریب سے ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر قاسم کاکڑ سیکرٹری زراعت امید علی ، سیکرٹری ایجوکیشن عبدالروف بلوچ ،عرفان علی بختیاری ، انعام الحق ، علی رضا ، بشیر آغا،محمد اسلم نیازی، عبدالوہاب کاکڑ، ناصر مجید،ڈاکٹر عبیداللہ ، شکیل زہری، عطا محمد ترکئی سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا میر اسد اللہ بلوچ نے کہا کہ ہم نے ملک کے فریم ورک میں رہتے ہوئے اپنی جدوجہد کرتے ہوئے چیلیجنز کا مقابلہ کیا ہے بلوچستان کی سر زمین نے قدرت نے ہر کسی نعمت معدنیات وسائل پھلوں سے نواز رکھا ہے لیکن ہم نے ان نعمتوں اور وسائل کو قابل استعمال لا کر اپنے لوگوں کی حالت کو نہیں بدلہ جسکی وجہ سے ہمارے لوگوں کو مشکلات درپیش ہیں ہم سب کو اس دھرتی اور مٹی کے قرض کو اتارنے کے لئے اپنا قردار ادا کرنا ہوگا گزشتہ75سالوں سے آئی ایم ایف سے قرضے لئے گئے اس میں سے ایک فیصد بلوچستان پر خرچ نہیں ہوا آج فورٹائر سروس اسٹریکچرکی منظوری پر 30کڑور روپے خرچہ آنا ہے اس نیک کام میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کا بھی بڑا ہاتھ ہے انہوں نے بیوروکریسی کی مخالفت کے باوجود سمری پر دستخط کئے ان کا کہنا تھا کہ سیلاب میں 300ارب روپے کا نقصان ہوا وفاق نے 16ارب روپے دینے کی ہامی بھری اس کے بعد 8ارب پھر 4پھر2ارب دینے کا وعدہ کیا لیکن ایک پیسہ نہیں دیا صوبائی حکومت نے اپنی مدد آپ کے تحت سوا دو ارب روپے کی لاگت سے 4لاکھ بوری گندم کا بیج لے کر صوبے کے 34اضلاع کے کسانوں کو دیا جس کی بدولت آج گندم کی اچھی فصل ہوئی ہے اور ہماری ضرورت سے بڑھ کر ہوئی ہے وفاقی حکومت این ایف سی کے 17ارب روپے اور پی پی ایل کے اربوں روپے نہیں دی رہی یہ ہمارا حق ہے جو نہیں دیا جارہا وفاق نے 50ارب سے زائد کے فنڈز بلوچستان کے دینے ہیں لیکن مرکز بلوچستان کو نو آبادیاتی طرز حکمرانی پر ایک کالونی کے طور پر چلانے کی کوشش کر رہا ہے جو درست نہیں اس روش اور پالیسی کو بدلنہ ہوگا بلوچستان کے آفیسرز کو اپنے لوگوں کی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے ان کے کام کرنے ہوں گے تاکہ لوگوں کو مشکلات سے چھٹکارا مل سکے انہوں نے کہا کہ حالیہ مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی 2کروڑ 10لاکھ ہوئی ہے لیکن وفاقی وزرا اس کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں پنجاب کی آبادی زیادہ ظاہر کر کے وسائل پر اپنا قبضہ اور لوٹ مار چاہتے ہیں حالانکہ پنجاب کی آبادی کم ہے اور وفاق سمیت وہاں پر بیٹھنے والوں نے این ایف سی میں بھی رقبے کی بجائے آبادی کو شامل کیا ہے اگر رقبے کو شامل کرتے ہیںتو وسائل بلوچستان کر ملتے بلوچستان کے وسائل پر انکی نظر ہے غلط پالیسی اور طاقت کی وجہ سے صوبے میں پانچ بار انسرجنسی ہوئی ہے اسکا کسی کو شوق نہیں یہ اقدام بے انصافی روزگار تعلیم صحت کی سہولیات کی عدم فراہمی اور وسائل پر دسترس نہ ہونے کی وجہ سے اٹھائے جاتے ہیں صوبے کی 2کروڑ 10لاکھ کی آبادی میںسے 2لاکھ 75ہزار ملازمین ہیں یہاں پر کوئی انڈسٹری اور روز گار کے ذرائع نہیں لوگوںکا ذریعہ معاش نہیں ہم نے سسٹم کو بہتر بنانا ہے تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہو میں نے اپنے حلقے پنجگور سمیت بلوچستان میں تقریباً8ہزار ملازمتیں دی ہیں جو بغیر کسی سفارش اور پیسے کے دی ہیںاگر کوئی ثابت کردے تو میں سیاست چھوڑ دوں گا میں اپنے پارٹی ورکروں کی نظر نیچی نہیں ہونے دوں گا کیونکہ سر زمین کے اصل وارث یہ ہیں ہم نے اپنی نو جوان نسل کو معاشرتی برائیوں سے بچانا ہے تاکہ انہیں معاشرے کا کارآمد شہری بنائیں اور اپنے لوگوں میں شعور آجاگر کرنا تنگ نظری کی سوچ کو ختم کر کے وسیع النظر ہو کر ایک دوسرے کے ساتھ مل کر مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہے ملک میں انارکی کے خاتمے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور ملک کے 22کروڑ عوام کو طاقت سے کنٹرول کرنے کی بجائے اُنکی مشکلات دور کرنا ہوگی تمام طبقات کو ساتھ لیکر چلنا ہوگا بلوچستان میں بیش بہا قدرتی وسائل نعمتیں اور پھل موجود ہیں صرف انہیں بہتر طریقے سے مینیج کرکے بیرون ملک بھیج کر ذرمبادلہ کما سکتے ہیں بلوچستان میں دنیا کا اعلیٰ قسم کا سیب انگور ،انجیر،ناشپاتی،چلغوزہ،کھجور پیدا ہوتی ہے اسوقت ملک کی آخری امید بلوچستان ہے اور ہم اسکو بہتر بنا کر مسائل کے حل کو یقینی بنا سکتے ہیں ۔


