خضدار کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو صوبائی حکومت کی جانب سے نظر انداز کیا جارہا ہے، آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی

خضدار :آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی کے چیئرمین ایڈوکیٹ حمید بلوچ نے جھالاوان میڈیکل کالج سمیت خضدار کے اعلی تعلیمی اداروں کو صوبائی حکومت کی جانب سے مسلسل نظر انداز کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ آنے والے پی ایس ڈی پی میں جھالاوان میڈیکل کالج، سردار بھادر خان وویمن یونیورسٹی اور لسبیلہ یونیورسٹی وڈھ کیمپس کے لیئے بجٹ مختص کرکے عوام میں موجود بے چینی کا خاتمہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ مکران میڈیکل کالج اور لورالائی میڈیکل کالج کی تعمیر مکمل کی جاچکی ہے جب کہ جھالاوان میڈیکل کالج کی تعمیر میں مسلسل رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں۔خضدار کے تمام سیاسی و مذھبی جماعتوں کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ جھالاوان میڈیکل کالج کی اصل ماسٹر پلان کے تحت تعمیر شروع کی جائے لیکن صوبائی حکومت درپیش رکاوٹوں کے خاتمے اور بجٹ کی فراہمی میں مخلص نہیں جس سے یہاں کے تعلیم یافتہ نوجوانوں اور عوام میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی کا واضح موقف ہے کہ اگر آنے والے پی ایس ڈی پی میں جھالاوان میڈیکل کالج کے لیئے فنڈز مختص اور بلڈنگ کی تعمیر کا عمل فوری طور پر شروع نہیں کیا گیا تو احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائیگا۔آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی کے چئیرمین نے کہا کہ سکندر شہید یونیورسٹی کی تعمیر مکمل کی جاچکی ہے حکومت سکندر شہید یونیورسٹی کی ایکٹ کی منظوری میں تاخیر کرنے کے بجائے ملازمین کی تقرری و کلاسز شروع کرنے کے لیئے فوری و عملی اقدامات کرے اسی طرح لسبیلہ یونیورسٹی وڈھ کیمپس کو باقائدہ یونیورسٹی کا درجہ دینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ سردار بہادر خان وویمن یونیورسٹی کے ملازمین کی مستقلی کے لیئے ایک عرصے سے جدوجہد کی جارہی ہے سردار بھادر خان وویمن یونیورسٹی کی تعمیر فوری مکمل کرکے تمام ملازمین کو مستقل کیا جائے۔انہوں نے خضدار سے منتخب رکن قومی اسمبلی سردار اختر جان مینگل، اراکین صوبائی اسمبلی نواب ثنا اللہ خان زہری، میر یونس عزیز زہری، میر محمد اکبر مینگل اور خضدار سے تعلق رکھنے والے اراکین سینٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ خضدار کے اعلی تعلیمی اداروں کی تعمیر و ترقی کے لیئے اپنا کردار ادا کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں