پیٹرولیم مصنوعات میں کمی کے باوجود کوئٹہ میں پبلک ٹرانسپورٹ کرایہ میں کمی نہ ہوسکی
کوئٹہ (آئی این پی) پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں واضح کمی کے با وجود بھی صوبا ئی دارالحکومت کو ئٹہ کے شہریوں کو کو ئی ریلیف نہ مل سکا ، تمام روٹس پر چلنے والے لو کل بس ما لکان شہریوں سے وہی کرا یہ وصول کر رہے ہیں جس وقت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر تھی ،زائد کرا یوں کی وصولی پر اعتراض کر نے والے شہریوں اور طلبا ءو طا لبا ت کی بھی خوب عزت افزائی کی جا تی ہے بلکہ جسے بھی بتا نا ہے جا کر اس کو بتا نا کو ئی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا جیسے جملے بھی سننے کو ملتے ہیں۔ تفصیلا ت کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی گرتی قیمتوں کے باعث پا کستان میں بھی گزشتہ ایک ما ہ سے تیل کی قیمتوں میں واضح کمی کی گئی ہے مگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے با وجود بھی اہلیان کو ئٹہ کو ٹرانسپورٹ کرا یوں میں کو ئی ریلیف نہیں مل سکا ہے بلکہ اس وقت بھی وہی کرا یے وصول کئے جا رہے ہیں جو کرا یے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ ساز اضافہ کے وقت وصول کئے جا رہے تھے اس وقت صو با ئی دارالحکومت کو ئٹہ میں لو کل بس ما لکان کی من ما نیاں عروج پر ہےں جہاں انہیں سٹاف ٹو سٹاف کرا یہ میں فا ئدہ ہو وہ شہریوں سے اسی کی مد میں کرا یہ وصول کر تے ہیں اور جہاں فاصلہ کچھ زیا دہ ہو وہاں یہ 50روپے کی بجا ئے 60روپے تک وصول کررہے ہیں ایسا کچھ سمنگلی روٹ پر چلنے والی لا کل بسوں میں نوحصار تک سفر کر نے والوں کے ساتھ ہوتا ہے اور جیسے ہی لو کل بس سمنگلی سے نوحصار کی جا نب چل پڑتی ہے بس کلینر مزید 10روپے کی ادائیگی کامطا لبہ کر تا ہے اور بحث و مباحثہ کر نے والوں کو اتر جا نے کا کہا جا تا ہے ۔کو ئٹہ میں ایک طرف انگریز دور کی بسیں سڑکوں پر دوڑتی نظر اا تی ہے دوسری جا نب ان کا کرایہ میٹرو بس جتنا وصول کیا جا رہا ہے ۔حکومتی سطح پر گرین بسیں چلا نے کے منصوبے کے اعلان کے بعد بسیں بھی خریدی گئی ہیں مگر بس ما لکان کے سیاسی اور قبا ئلی اثر و رسوخ کے سامنے وہ بے بسی کا شکا ر ہیں کچھ عرصہ قبل جب نئی گرین بسوںکے خرا ب ہو نے کے اندیشے سے متعلق خبریں میڈیا کی زینت بنی تو اگلے ہی روز لو کل بس ما لکان نے احتجاج کی دھمکی دی جس کی وجہ سے معاملہ ایک با ر پھر سرد خانہ کی نذر کر دیا گیا ہے ۔اہلیان کو ئٹہ کا مطا لبہ ہے کہ ایک تو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد کرا یوں میں کمی اور لو کل بسوں کی حالت زار بہتر بنانے پو توجہ دی جا ئے اور ساتھ ہی گرین بسیں چلا نے کے منصوبے پر عمل در آمد کےلئے اقدامات کئے جا ئیں ۔


