سیندک اور ریکوڈک پراجیکٹس میں چاغی، نوشکی، خاران اور واشک کے بیروزگارنوجوانوں کو ترجیح دی جائے، بی این پی
نوشکی (این این آئی) نوشکی بلوچستان نیشنل پارٹی کے سی ای سی رکن میر خورشید جمالدینی نے سیندک اور ریکوڈک پراجیکٹ میں چاغی نوشکی خاران اور واشک کے بیروزگار،ہنرمند اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کو بھرتی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ سیندک اور ریکوڈک پراجیکٹ اس ریجن کے پراجیکٹ ہیں اور ان میں رخشان ڈویڑن کے تمام اضلاع کو برابری کے سطح پر بھرتی کیا جائے دیگر صوبوں اور دیگر علاقوں کے بجائے رخشان ڈویژن کے اضلاع کو ترجیح ملنی چائیے تاکہ رخشان ڈویژن کے تمام اضلاع میں بیروزگاری کا خاتمہ ممکن ہوسکے ۔انہوں نے کہاکہ رخشان ڈویژن ایک پھول اور ایک گلدستے کے مانند ہے اور اس وقت رخشان ڈویژن میں دو عالمی پراجیکٹ ہونے کے باوجود ڈویژن کے تمام اضلاع میں تعلیم یافتہ ہنرمند نوجوان بیروزگاری سے دوچار ہیں روزگار کے دیگر ذرائع نہ ہونے کی وجہ سے لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں سیندک سمیت ریکوڈک پراجیکٹ میں پہلا حق ضلع چاغی کے نوجوانوں کا ہے جس کے بعد رخشان ڈویژن کے اضلاع نوشکی، خاران اور واشک کا حق بنتا ہے اس ریجن کے تمام اضلاع کو برابری کے سطح پر نوکریاں فراہم کی جائے بلکہ 50 فیصد ضلع چاغی کے نوجوانوں اور 50 فیصد نوکریوں میں رخشان کے دیگر اضلاع کو ترجیح ملنی چاہیے تاکہ رخشان ڈویژن کے اضلاع میں بیروزگاری کم ہو اور لوگوں کو روزگار کے ذرائع اور ترقی و خوشحالی کا موقع مل سکے ،رخشان ڈویژن پسماندہ اور کم ترقی یافتہ علاقہ ہے اور لوگ دو وقت کی روزی روٹی اور غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اس لئے ان اضلاع کو 50 فیصد کوٹے کے بنیاد پر روزگار اور نوکریاں فراہم کی جائے ۔انہوں نے کہاکہ سیندک اور ریکوڈک دو بڑے عظیم منصوبے ہیں دونوں پراجیکٹ میں پہلا حق رخشان ڈویژن کے لوگوں کا بنتا ہے اس لئے پراجیکٹس انتظامیہ بیروزگاری کے خاتمے اور اس ریجن کی ترقی و خوشحالی کے لئے دیگر صوبوں کی بجائے رخشان ڈویژن کے بیروزگار تعلیم یافتہ ہنرمند نوجوانوں کو نوکریاں فراہم کریں انہیں روزگار کی فراہمی یقینی بنائے تاکہ ان اضلاع میں بیروزگاری کا خاتمہ ممکن ہوسکے اور لوگوں کو روزگار میسر ہو۔انہوں نے کہاکہ رخشان ڈویژن کے تمام عوامی نمائندے اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے ان پراجیکٹس کے انتظامیہ کے ساتھ مربوط رابطہ قائم و استوار کرکے ایک منظم کوٹہ سسٹم تشکیل دیں جس میں 50 فیصد چاغی اور 50 فیصد رخشان ڈویژن کے دیگر اضلاع کے لئے باقاعدہ کوٹہ مختص کریں تاکہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو اور مقامی لوگوں کو روزگار کے زیادہ سے زیادہ زرائع میسر ہو سکے اور نوجوانوں کو نوکریوں کا موقع مل سکے۔اگر ان پراجیکٹس کے انتظامیہ نے مقامی لوگوں کو نظرانداز کرکے دیگر صوبوں کے لوگوں کو ترجیح دی تو اسکے خلاف ہرگز خاموش نہیں بھیٹیں گے اور شدید احتجاج پر مجبور ہونگے۔


