ایک صوبائی وزیر کو خوش کرنے کیلئے پی ایم ڈی سی کی لیز ختم کرنا آئین کے منافی ہے، پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن

کوئٹہ (آن لائن) پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن نے بلوچستان حکومت کی جانب سے ایک صوبائی وزیر کو خوش کرنے کیلئے اٹھارویں ترمیم کے غلط استعمال کے ذریعے پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن( پی ایم ڈی سی) کی لیز ختم کرنا آئین و قانون کی دھجیاں اُڑانے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پی ایم ڈی سی لیز کی منسوخی کے اقدام سے 5500 افراد بے روزگار ہوں گے لہٰذاچیف جسٹس آ ف بلوچستان ہائیکورٹ سے اپیل ہے کہ وہ پی ایم ڈی سی لیز کی منسوخی روکنے میں اپنا کردار اداکریں تاکہ ہزاروں لوگ بیروز گار ہونے سے بچ سکیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے مرکزی سیکرٹری جنرل سلطان محمد خان ،مرکزی چیئرمین عبدالستار،پی ایم ڈی سی ایمپلائز اینڈ سٹاف یونین شاہرگ کے جوائنٹ سیکرٹری حاجی محمد یونس،پی ایم ڈی سی ایمپلائز یونین کے جنرل سیکرٹری ساجد کھوکھر،لیبر اینڈ ایمپلائز یونین شیخ سرمضان مچھ کے صدر محمد شاکر سمالانی نے میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کیا پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے مرکزی سیکرٹری جنرل سلطان محمد خان کا کہنا تھا کہ پی ایم ڈی سی ایک پرائیویٹ کمپنی ہے جو گزشتہ 7سال سے بلوچستان کے مختلف مقامات میں مائننگ کر رہی ہے،جس میں 500 ریگولر ملازمین اور 5000 مزدور کام کر رہے ہیں ،پی ایم ڈی سی کی انتظامیہ مائنز لیبر ایکٹ کے تحت اپنے ملازمین اور ان کے بچوں کوتعلیم ، میڈیکل ،ٹرانسپورٹ،پینے کا صاف پانی،رہائش ، بجلی سمیت دیگر سہولیات فراہم کرر ہی ہے جو مراعات پی ایم ڈی سی کی انتظامیہ اپنے ملازمین کو دیتی ہے وہ بلوچستان میں کوئی پرائیویٹ مائن مالک اپنے ملازمین کو نہیں دیتا،اس لحاظ سے پی ایم ڈی سی کی لیز ختم کرنا کسی صورت بھی جائز نہیں ہے۔سلطان محمد خان کا کہنا تھا کہ مہنگائی اور بے روز گاری کے اس دور میں پی ایم ڈی سی مائنز ورکرز کیلئے ایک سایہ دار درخت کی مانند ہے جس سے ہزاروں خاندان مستفید ہو رہے ہیں ،ماضی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے بلوچستان میں مائننگ ایریاز کے دورے کے موقع پر پی ایم ڈی سی کو بلوچستان میں مائننگ کے حوالے سے رول ماڈل قرار دیا تھا۔پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے مرکزی سیکرٹری جنرل سلطان محمد خان نے کہا کہ پی ایم ڈی سی ایک پرائیویٹ مائن اونر کی طرح سیل ٹیکس،انکم ٹیکس ،صوبائی گورنمنٹ کی رائلٹی اور الاٹڈ ایریا کا سالانہ کرایہ بھی بلوچستان گورنمنٹ کو دے رہی ہے اور تمام ایریا اور دفاترز سب کچھ الاٹ شدہ ہے،یہ پی ایم ڈی سی کی ذاتی ملکیت نہیں ہے بلکہ یہ تمام ا لاٹ شدہ ایریا صوبائی گورنمنٹ نے باقاعدہ لیز پر دیا ہے جس کے ختم ہونے کی معیاد 2042 ہے،بلوچستان حکومت نے پی ایم ڈی سی لیز کی منسوخی کی صورت میںپی ایم ڈی سی کے 500 ریگولر ملازمین اور 5000 مزدوروں کو بے روزگار کرنے کی تیاری کرلی ہے ،پی ایم ڈی سی لیز کی منسوخی کی صورت میں ہزاروں لوگوںکے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑجائیں گے لہٰذاچیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ سے اپیل ہے کہ پی ایم ڈی سی لیز کی منسوخی فوری طور پر روکی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں