بلوچستان کی جامعات کیلئے 10 ارب روپے مختص کیے جائیں، اساتذہ اور عملے کا مطالبہ

کوئٹہ (آن لائن) جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان و فپواسا بلوچستان چیپٹر کے زیر اہتمام صوبائی حکومت کی سالانہ بجٹ میں صوبے کی تمام جامعات کے لئے 10 ارب روپے مختص کرنے کےلئے پریس کلب کوئٹہ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا مظاہرے میں جامعہ بلوچستان بیوٹمز، تربت ،لورالائی اور خضدار انجینئرنگ یونیورسٹی کے اساتذہ ،آفیسران اور ملازمین کی بڑی تعداد نے شرکت کی مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پراپنے مطالبات کے حق میں نعرے درج تھے مظاہرین سے پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، شاہد علی بگٹی، پروفیسر فرید خان اچکزئی، پروفیسر نعمان کاکڑ، نعمت اللہ کاکڑ، گل جان کاکڑ، پروفیسر ارسلان شاہ، پروفیسر عبدالباقی جتک ،پروفیسر سہیل انور بلوچ اور سیدشاہ بابر نے خطاب کیا جبکہ نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے صوبائی سیکرٹری ایمل خان ناصر نے اظہار یک جہتی کے لئے شرکت کی۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت صوبے کی جامعات کے لئے اپنے سالانہ بجٹ 2023-24 میں کم ازکم 10 ارب روپے مختص کرے تاکہ جامعات بہتر طور پر چل سکیں اگر جامعات کے لئے 10 ارب روپے مختص نہیں کئے تو سال بھرتمام جامعات سخت مالی بحران کا شکارہو نگے اور جامعات میں احتجاجی مظاہرے اور ہڑتالیں ھونگی مقررین نے واضح کیا کہ پچھلے سال بھی صوبائی حکومت نے تمام جامعات کے لئے صرف ڈھائی ارب روپے مختص کئے تھے نتیجے میں سال بھرجامعہ بلوچستان، بیوٹمز اور دیگر جامعات میں مسلسل احتجاجی مظاہروں اور ہڑتال ھوتی رہیں اور پھر صوبائی حکومت نے اضافی رقم جاری کی جبکہ بیوٹمز میں اب بھی احتجاج جاری ہے ان کا کہنا تھا کہ دانشمندانہ عمل یہی ہے کہ صوبائی حکومت اب اپنے سالانہ بجٹ میں جامعات کے لئے 10 ارب روپے مختص کرے۔مقررین نے وفاقی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے 14 ہزار 600 ارب روپے کے بجٹ میں ملک بھر کی جامعات کی ریکرنگ بجٹ کے لئے پھر صرف 65 ارب روپے مختص کئے جو انتہائی ناکافی ہیں نتیجتاً پورا سال ملک بھر کی جامعات سخت مالی بحران کا شکارہونگے۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے بجٹ پر نظرثانی کرکے ملک بھر کی جامعات کی ریکرنگ بجٹ کے لئے 500ارب روپے اور ترقیاتی بجٹ کے لیے 200 ارب روپے مختص کریں۔ مقررین نے گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن کے مطالبات کی حمایت کا اعلان کر تے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان منظور شدہ مطالبات فوری طور پر تسلیم کر کے نوٹیفکیشن جاری کر ے تاکہ ان میں پائی جانے والی تشویش دور ہو سکے مظاہرین اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے پر امن طور پر منتشر ہوگئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں