ماشکیل بارڈر پر سرکاری افسران فی ٹوکن 6 لاکھ میں فروخت کرنے لگے، عوامی حلقوں کی تشویش

خاران (آن لائن) ممتاز قبائلی و سیاسی رہنما وسابق صوبائی وزیر میر مجیب الرحمن محمد حسنی نے کہا کہ گزشتہ دنوں ماشکیل میں عوامی خدمت اور حفاظت پر مامور آفیسران کی زیر نگرانی ماشکیل بارڈر کے ٹوکن انٹری کے 400 گاڑیوں کے جعلی قرعہ اندازی کے نام پر عوام کے حقوق پر سرعام ڈاکہ مارا گیا اور سینکڑوں ٹوکن فی گاڑی 6 لاکھ روپے مختلف دلالوں کے ذریعے فروخت کئے گئے جو کہ کروڑوں روپے مذکورہ آفیسران نے بٹورے جس کا ماشکیل کے فرد فردکو پتہ ہے۔ بارڈر ٹوکن سسٹم حکومت پاکستان نے لوگوں کو راشی آفیسران کے شر سے بچانے کیلئے شروع کیا تاکہ لوگوں کو بلیک میلنگ اور بھتہ گیری کے بغیر کاروبار کے مواقع حاصل ہوں لیکن یہاں پر الٹی گنگا بہہ رہی ہے، سرکاری آفیسران نے اسے راتوں رات کروڑ پتی بنانے کا ذریعہ بنایا اور ٹوکن سرعام فروخت کئے جارہے ہیں اس کے علاوہ ہر رات 25 سے 30 گاڑیاں فی گاڑی 30 ہزار روپے بھتہ لے کر بغیر ٹوکن کے انٹری دی جارہی ہے جس سے لاکھوں روپے ہر رات ہر آفیسران کے رشوت کا ذریعہ ہے۔ اپنے جعلی قرعہ اندازی میں کئی فوت ہونے والے لوگوں کے نام شامل کئے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ فوری طور پر جعلی قرعہ اندازی اور نیلام عام کے ذریعے فروخت کئے گئے یہ تمام ٹوکن منسوخ کئے جائیں اور شفاف طریقے سے حقداروں کا حق ان کو دیا جائے بصورت دیگر وہ پریس کانفرنس میں تمام ملوث سرکاری آفیسران کے نام لیکر ان کا کردار عوام کے سامنے لائینگے انھوں نے آخر میں کورکمانڈر بلوچستان،آئی جی ایف سی ساوتھ چیف سیکرٹری بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ عوام کے حقوق پر ڈاکہ مارنے اور اس کرپشن کا فوری نوٹس لیکر ملوث اہلکاروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے اور ماشکیل کے عوام کے حقوق کی پاسداری کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں