پاکستان کوئی بنانا ری پبلک نہیں، ملٹری کورٹس میں سویلین کیسز کسی صورت قبول نہیں، پاکستان بار کونسل

کوئٹہ (این این آئی) پاکستان بار کونسل کے ممبر منیراحمد کاکڑ ایڈووکیٹ نے سپریم کورٹ کے وکیل عزیر بھنڈاری ایڈوکیٹ کی اغواءاور معروف قانون دان سردار عبدالطیف کھوسہ ایڈوکیٹ کی رہائش گاہ پر فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان کوئی بنانا ری پبلک نہیں،وکلاءآزاد عدلیہ کیلئے آج بھی کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے،عدالتوں کے متوازی کوئی عدالت بار اور وکلاءکیلئے قابل قبول نہیں ہے۔آئین میں تمام اداروں کااحترام ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنے جاری کردہ بیان میں کیا۔ منیراحمدکاکڑ ایڈووکیٹ نے کہاکہ لاہور سے سپریم کورٹ کے وکیل عزیر بھنڈاری ایڈوکیٹ کی اغواءانتہائی قابل مذمت اقدام ہے اور معروف قانون دان سردار عبدالطیف کھوسہ ایڈوکیٹ کی رہائش گاہ پر فائرنگ کاواقعہ بزدلانہ فعل ہے ایسے واقعات آئین وقانون سے عوام کے اعتماد کو ختم کرنے جیسی اقدامات کے متراد ف ہے،انہوں نے کہاکہ وکلاءآج بھی آزاد عدلیہ کیلئے پہلے جیسی تحریک چلانے کیلئے تیار ہیں اور بھرپور کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ ملٹری کورٹس میں سولین کی کیسز کسی صورت قبول نہیں، ہماری موجودہ عدالتی سسٹم کے پیرلل کوئی بھی دوسرا عدالت بار اور وکلاءکو کسی صورت قبول نہیں ہے،انہوں نے اس بات پر تشویش کااظہار کیاکہ پاکستان کوئی بنانا ری پبلک نہیں کہ ایک ادارے کااحترام ہوں خودکومقدس سمجھے اور دیگر اداروں کا کوئی احترام نہیں،آئین میں تمام اداروں کااحترام ہے اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ملک میں ایک ادارے کااحترام ہوں دوسرے اداروں کا نہیں تو ایسے رویوں سے ملک انارکی کی طرف جائے گا سپریم کورٹ کے وکیل عزیر بھنڈاری ایڈوکیٹ کا شمار سپریم کورٹ کے معزز اور سینئر ترین وکلا میں ہوتا ہے۔ فوری طورپر عزیز بھنڈاری کوبازیاب اور سردارلطیف کھوسہ کی رہائش گاہ پر فائرنگ کے ملزمان کو گرفتارکرکے کیفر کردار تک پہنچایاجائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں