وزیراعظم کی کشتی واقعہ کے ذمہ داران کو جلد کیفرِ کردار تک پہنچانے کی ہدایت
اسلام آباد(صباح نیوز)وزیر ِ اعظم میاں محمد شہباز شریف کو یونان کے قریب بحیرہ روم میں کشتی الٹنے کے واقعہ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔وزیر ِ اعظم محمد شہباز شریف نے کشتی واقعہ کے ذمہ داران کو جلد کیفرِ کردار تک پہنچانے کی ہدایت جاری کر دیں۔وزیر اعظم نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی سمگلروں کی کارروائیاں بروقت کیوں نہ روکی گئیں؟ متاثرہ لوگوں کا جن ضلعوں سے تعلق ہے وہاں کی انتظامیہ نے ملوث سمگلروں اور ایجنٹوں کی کاروائیوں کا بروقت نوٹس کیونکر نہ لیا؟ وزیر ِ اعظم نے تحقیقاتی کمیٹی کو کارروائی مکمل کرکے واقعہ کی جلد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی ۔ وزیر اعظم نے وزیرِ داخلہ رانا ثنا اللہ کو تحقیقات کی مکمل نگرانی کرنے اور ذمہ داران کو سزا دلوانے کے حوالے سے ضروری قانون سازی کیلئے تجاویز مرتب کرنے کی ہدایت کردی ۔وزیر عظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت یونان کے قریب کشتی الٹنے کے واقعہ پر اعلیٰ سطح اجلاس بدھ کے روز منعقد ہوا۔اجلاس میں وفاقی وزراء رانا ثنا اللہ، مریم اورنگزیب، معاون خصوصی سید طارق فاطمی، ڈی جی ایف آئی اے، چیف سیکرٹری آزاد جموں و کشمیر و متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔اجلاس میں وزیر اعظم کو کشتی الٹنے کے واقعہ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ یونانی کوسٹ گارڈ نے 12 جون کو کشتی کی نشاندہی کی جس میں ایک اندازے کے مطابق 700 کے قریب لوگ سوار تھے۔کشتی مصری شخص کی ملکیت تھی جس میں زیادہ تر سواروں کا تعلق شام، لیبیا اور پاکستان سے تھا۔کشتی میں سوار لوگوں میں سے 102 لوگوں کو زندہ ریسکیو کیا جا چکا ہے جن میں سے 15 کا تعلق پاکستان سے ہے۔کشتی الٹنے کے بعد اس وقت مجموعی طور پر 15 لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے جن میں اس واقعہ کا مرکزی ملزم بھی شامل ہے۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ انسانی سمگلنگ میں مختلف ممالک میں موجود ایک منظم نیٹ ورک ملوث ہے۔وزیر ِ اعظم نے اس معاملے کی تفصیلی تحقیقات کو جلد مکمل کرنے اور ایف آئی اے کو اس کے روک تھام کے مئوثر اقدامات اٹھانے کی ہدایت کر دی۔وزیر ِ اعظم نے کمشنر گوجرانوالہ کو بھی ضلع گوجرانوالہ میں ایسے ایجنٹس کی نشاندہی کرکے انہیں جلد قانون کی گرفت میں لانے کی ہدایت کی۔


