سندھ اور بلوچستان کے وسائل کو لوٹ کر سندھیوں اور بلوچوں کو بھوک، بیروزگاری اور افلاس کے حوالے کردیا گیا، عوامی تحریک

کوئٹہ (آن لائن) عوامی تحریک کے مرکزی جنرل سیکرٹری نور احمدکاتیار کی قیادت میں عوامی تحریک کے وفد کی بلوچ رہنما ڈاکٹر حئی بلوچ کے بیٹے، نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما ایڈووکیٹ چنگیز حئی بلوچ سے کوئٹہ میں ملاقات، پاکستان خصوصاً سندھ اور بلوچستان کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ سندھ اور بلوچستان کے جزائر پر قبضہ کرنے کے لیئے وفاقی اسمبلی سے منظور شدہ میری ٹائم زونس بل 2023 اور سندھ اور بلوچستان کے صوبائی اسمبلیوں کی طرف سے صوبوں کے وسائل اور اختیارات وفاق کے سپرد کرنے والی قرار دا د و ں کی رہنماﺅں نے مذمت کی۔ عوامی تحریک کے مرکزی جنرل سیکرٹری نور احمد کاتیار نے کہا کہ سندھ اور بلوچستان کو فتح کیے گئے علاقے کی طرح لوٹا جا رہا ہے سندھ کے پانی پر گزشتہ ڈیرھ سو سال سے پنجاب کے حکمرانوں کی ڈکیتی جاری ہے حکمران نے اقتدار کی لالچ میں بلوچستان اور سندھ کے تمام تر وسائل وفاق کو لکھ کر دے دیئے ہیںبلوچستان اور سندھ کے عوام کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے باہر کے لوگوں کو آباد کیا جا رہا ہے، سازشی ڈجیٹل مردم شماری کرائی گئی لاکھوں ایکڑ زمین ڈی ای ای، بحریا ٹاﺅن، ذوالفقار آباد، کمانڈر سٹی کو دی گئی ہے۔سند ھ کے تیل، گیس، بجلی اور کوئلے پر سندھی عوام کا کوئی اختیار نہیں ہے سمندری جزائر پر قبضہ کر لیا گیا ہے اس نے کہا کہ سندھ اور بلوچستان کے وسائل کو بچانے کے لیے سندھ اور بلوچستان کے ترقی پسند سیاسی قیادت کو اکٹھے ہوکر جدوجہد کرنی پڑے گی نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما ایڈووکیٹ چنگیز حئی بلوچ نے کہا کہ سندھ اور بلوچستان کے مشکلات اور مسائل ایک ہیں جب تک محکوم اقوام بلوچ، سندھی، سرائیکی، پشتون اکٹھے نہیں ہوتے تب تک ہمارے مسائل حل نہیں ہو سکتے ہمارے معاملات مشترکہ ہیں مظلوم اقوام کو مشترکہ طور پر سیاس جدوجہد کرنی ہوگی تاکہ ہمارے سیاسی قائدین کے عظیم مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے سندھ اور بلوچستان معاشی طور پر اس ملک کو چلاتے ہیں، لیکن سندھ اور بلوچستان کو دیوار سے لگایا گیا ہے سندھ اور بلوچستان کے وسائل پر قبضہ ہے سندھیوں اور بلوچوں کو بھوک، بیروزگاری، اور افلاس کے حوالے کیا گیا ہے ریکوڈک معاملے پر سندھ اور بلوچستان کے سارے وسائل دونوں صوبوں کی اسمبلیوں نے غیرقانونی طور پر وفاق کو لکھ کر دیے ہیںاس نے کہا کہ پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے بلوچ رہنما کوئی بھی کردار ادا نہیں کر رہے ذاتی مفادات کی سیاست نے سندھ اور بلوچستان کو بڑا نقصان پہنچایا ہے اس نے کہا کہ ہماری سینئر سیاسی قیادت کی وفات کے بعد نوجوان قیادت سے اس خال کو پر کردیا جائے گا اس نے کہا کہ جب تک وطن دوست، عوام دوست نوجوان بلوچستان کی سیاسی قیادت نہیں سنبھالتے تب تک بلوچستان پسماندہ رہے گا۔ اس نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ ہمیشہ ملک کے مظلوم اقوام کے حق میں آواز اٹھاتے رہے، ان کی جدوجہد کو جاری رکھا جائے گا ۔ عوامی تحریک کے وفد میں عوامی تحریک کے مرکزی سوشل میڈیا سیکرٹری ایڈووکیٹ اظہار داﺅدپوٹو، مرکزی پریس سیکرٹری کاشف ملاح، مرکزی رہنما نور نبی پلیجو، ایاز کھوسو، ایس ایس ٹی کے مرکزی سوشل میڈیا سیکرٹری ایاز صالح پلیجو شامل تھے۔ اس موقعے پر بلوچ رہنما ایڈووکیٹ قلندر رضا مگسی اور غلام علی مگسی بھی موجود تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں