کوہلو میں گیس کمپنی کی ناانصافی اور نادرا عملے کے رویے کیخلاف سول سوسائٹی اور عوامی حلقوں کی ریلی
کوہلو (این این آئی) ضلع کوہلو میں گزشتہ روز سول سوسائٹی اور قبائلی رہنماءماڑی گیس کمپنی اور نادرا عملے کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے، جنہوں نے شہر میں ریلی و احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ریلی کا آغاز بینک چوک سے ہوا جو شہر کے مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے ختم نبوت چوک پہنچ گئی، جہاں ریلی نے احتجاجی مظاہرے کی شکل اختیار کی جو بعدازاں ڈسٹرکٹ پریس کلب پہنچی جہاں ریلی سے قبائلی رہنماءمیر بجار مری اور وڈیرہ علی نواز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع میں ماڑی گیس کمپنی گزشتہ ایک سال سے کام کررہی ہے مگر یہاں کے عوام کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، جس سے یہاں کے عام آدمی کو شدید تحفظات لاحق ہوگئے ہیں، ماڑی گیس کمپنی نے سروے کے دوران لوگوں کے زمینوں، بندوں اور فصلوں کو شدید متاثر کیا ہے جن کی وجہ سے لوگوں کو لاکھوں روپے کے نقصانات ہوئے ہیں جن کا ازالہ نہیں کیا جارہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر کوہلو کہتے ہیں کہ زمینوں کے فرد جمع کیے جائیں 1964ءکے بعد کسی زمین کا سروے و انتقال نہیں ہوا ہے، اب زمینیں مختلف حصوں میں تقسیم ہوگئی ہیں جبکہ ضلع کے 70 فیصد زمینوں کا انتقال 1964ءکے ریکارڈ میں نہیں ہے، جو اس وقت آباد نہیں تھے مگر اب آباد ہوگئے ہیں اور آبادی کی وجہ سے زمینوں کے اسٹرکچر تبدیل ہوگیا، جس زمین کا انتقال نہیں ہے وہاں کے مالک کے لاکھوں روپے کے نقصان کا ذمہ دار کون ہے۔ اس حوالے سے ماڑی گیس کمپنی اور ڈپٹی کمشنر کوہلو عوام کے ساتھ بیٹھ کر مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں، ماڑی گیس کمپنی عوام کو بتائے کہ وہ آنے والے مستقبل میں گیس اور تیل کی رائلٹی کے صورت میں عوام کے فلاح وبہبود کےلئے کیا کرے گی تاکہ عام آدمی کے ذہنوں میں پیدا ہونے والی الجھن دور ہوسکے۔ اس موقع پر مقررین نے نادرا آفس کوہلو کے عملے کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ نادرا آفس میں مامور عملے کے لوگ عوام کے نوکر ہیں مگر انہوں نے اپنی بادشاہی بنا رکھی ہے جس کی وجہ سے عوام کو حصول شناختی کارڈ میں شدید مشکلات درپیش ہیں، گزشتہ روز نادرا کے ایک معمولی ڈیٹا آپریٹر نثار احمد ولد حق نواز نے ب فارم کےلئے آنے والے شہری کرم خان کو تشدد کا نشانہ بنایا اور دھکے دے آکر دفتر سے نکالا جس کی باقاعدہ سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہے۔ نادرا آفس میں آنے والے لوگوں کی رہنمائی کے بجائے ان کے ساتھ ہتک آمیز رویہ رکھا جانا معمول بن گیا ہے۔ کوہلو کے دور دراز علاقوںسے درجنوں لوگ یومیہ شناختی کارڈ کے حصول کےلئے آتے ہیں مگر ان کے مسائل حل کرنے بجائے ان سے رشوت کی ڈیمانڈ کی جاتی ہے جو پورا نہ کرنے کی صورت میں ان کو کئی چکر کاٹنے پڑتے ہیںہماری صوبائی چیئرمین نادرا ،ریجنل آفیسر اور صوبائی محتسب سے مطالبہ ہے کوہلو نادرا آفس عملے کے خلاف فوری نوٹس لیکر ان کا تبادلہ کیا جائے۔


