بلوچستان میں سلیکشن کی تیاری ہورہی ہے، لاشوں سے گزر کر اقتدار حاصل کرنیوالوں کو عوام کی کوئی فکر نہیں، حاجی لشکری
کوئٹہ (آن لائن) سینئر سیاست دان و سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ غیر نمائندہ لوگوں کو سلیکٹ کرکے پارلیمنٹ پر مسلط کیا گیا ہے، ہزاروں نوجوان ڈگریاں ہاتھوں میں لیے بے روزگار ، لاکھوں بچے ناخواندگی کی دلدل میں دھنس رہے ہیں، لوگ علاج نہ ہونے سے اسپتالوں میں ٹھوکریں کھارہے ہیںجبکہ پارلیمنٹ اور سینیٹ میں چیئرمین سینیٹ اور ارکان کی مراعات میں اضافہ کیلئے قانون بنائے جارہے ہیں، یہ بات انہوں نے جمعہ کے روز سراوان ہاﺅس میںسیاسی کارکنوں کی فکری نشست میں گفتگو کرتے ہوئے کہی ۔ نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا کہ آج کی پارلیمنٹ کی بے حسی سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک خاص مقصد کیلئے غیر نمائندہ لوگوں کو سلیکٹ کرکے پارلیمنٹ پر مسلط کیا گیا ہے، بلوچستان میں ہزاروں نوجوان ڈگریاں ہاتھوں میں لیے بے روزگاری کے باعث مایوسی کا شکار اور لاکھوں بچے ناخواندگی کی دلدل میں دھنس رہے ہیں ایسے میں پارلیمنٹ اور خصوصاً سینیٹ اپنے چیئرمین کی مراعات میں اضافہ کررہا ہے اس کا مطلب یہ لوگ اپنے معاشرے کی حالت اور معاشی صورتحال سے بے خبر اور اپنی مراعات میں اضافہ کرنے میں لگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ چیئرمین سینیٹ ہوں یا ان کے پیش رو جو سالہا سال تک خود کو عوام کا نمائندہ کہتے رہے ان میں اگر یہ احساس ہوتا یا یہ لوگ عوام کے حقیقی نمائندے ہوتے تو اپنی مراعات اور اخراجات میں کمی لاتے لیکن یہ لوگ تو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اپنے لئے مراعات کا قانون پاس کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اللہ پاک نے عوام کی طاقت سے ہمیں موقع دیا تو اس قانون کو واپس اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے جدوجہد کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ بظاہر تو لگ رہا ہے کہ ایک مرتبہ پھر سے پورے پاکستان بالخصوص بلوچستان میں سلیکشن کی منصوبہ بندی ہورہی ہے اور پھر انہی لوگوں کو پارلیمنٹ میں لاکر مسلط کیا جائے گا تاکہ پارلیمنٹ میں لوٹ مار پر کوئی بات نہ ہو۔ دریں اثناءسینئر سیاست دان وسابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے جمعہ کے روز معروف گلوکار عبدالخالق فرہاد کی رہائش گاہ واقع مشرقی بائی پاس جاکر ان سے ان کی ہمشیرہ کے انتقال پرتعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحومہ کی روح کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی اس موقع پر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہاکہ جو لوگ عوام کی لاشوں کو ٹاپ کر اقتدار کی کرسی پر بیٹھے ہیں ان کو عوام کی زندگیوں سے کوئی سروکار نہیں، نااہل لوگ اس وقت حکومت میں بیٹھے ہیں اور لوگ اسپتالوں میں ٹھوکریں کھارہے ہیں اور علاج نہ ہونے سے قیمتی انسانی جانیں ضائع ہورہی ہیں ،حکومت عبدالخالق فرہاد کی ہمشیرہ کے دوران علاج انتقال کی تحقیقات کرے۔ قبل ازیں نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی کو عبدالخالق فرہاد نے اسپتال عملہ کے رویے اور غفلت سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ 48 گھنٹے تک کسی ڈاکٹر نے ان کی ہمشیرہ کا علاج تو درکنار انہیں دیکھنا تک گوراہ نہ کیا،انہوں نے کہا کہ ان کی ہمشیرہ طبی موت نہیں مری بلکہ اس کا قتل کیا گیا ہے۔


