بلوچستان اسمبلی اجلاس، مالیاتی مسودہ قانون 2023ءقواعد انضباط کار کے تقاضوں سے مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے منظور
کوئٹہ(یو این اے )بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اڑھائی گھنٹے کی تاخیر سے ڈپٹی اسپیکر سردار بابر موسیٰ خیل کی زیر صدارت شروع ہوا ۔ اجلاس میں صوبائی وزیر خزانہ انجینئر زمرک خان اچکزئی نے مالیاتی مسودہ قانون 2023پیش کیا جسے ایوان نے ایوان نے قواعد انضباط کار کے تقاضوں سے مستثنی قرار دیتے ہوئے منظور کرلیا ۔اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری خلیل جارج نے تحریک پیش کی کہ بلوچستان اسمبلی کے قواعد انضباط کار کے قاعدہ 21(الف) کے تقاضوں سے مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے اتوار 25جون کو اسمبلی کا اجلاس منعقد کرنے کی اجازت دی جائے ۔ایوان نے تحریک کی منظوری دے دی ۔ اجلاس میں خاتون رکن زینت شاہوانی نے دوسرے روز بھی ایوان میں بیٹھ کر احتجاج ریکارڈ کروایا اس موقع پر رکن اسمبلی نصر اللہ زیرے نے کہا کہ زینت شاہوانی احتجاج کر رہی ہیں انکے مسائل کو حل کیا جائے ۔ڈپٹی اسپیکر سردار بابر موسیٰ خیل نے کہا کہ خاتون رکن نے جن مسائل کی نشاندہی کی ان پر بات ہوئی تھی بعدازاں زینیت شاہوانی نے اپنا احتجاج ختم کردیا ۔ اجلاس میں آئندہ مالی سال 2023-24کے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے صوبائی وزیر زراعت میر اسد اللہ بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے سیاسی حالات اور محل وقوع کو مد نظر عرکھتے ہوئے 750ارب روپے کا بجٹ گوادر کی سیوریج لائن بنانے کے لئے بھی ناکافی ہے صوبے میں لوگ مکان بنانے کے بعد ایک گڑھا گھود کر وہاں سیوریج کا پانی ڈالتے ہیں اس صورتحال پر عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ ہے کہ ایساکرنے سے زیر زمین پانی زہر بن جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں 7سے 10لاکھ لوگ تعلیم سے محروم ہیں ،صحت کا نظام بھی ابتر ہے علاج کے لئے کراچی جانا پڑتا ہے ،صوبے میں روز گار نہیں ہے ، حالیہ مردم شماری میں صوبے کی آبادی 2کروڑ 10لاکھ ہوگئی ہے مگر یہاں روز گار کے ساڑھے تین لاکھ مواقع ہیں دیگر لوگوں کو کیسے روزگار فراہم کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ اس بجٹ کو برا نہیں کہتا لیکن اگر میں یہ کہوں کہ اس سے تعلیم، صحت، زراعت کی سہولیات ملیں گی تو یہ جھوٹ ثابت ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ وفاق میں وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہے سیلاب سے بلوچستان کے زراعت کو 300ارب روپے کا نقصان ہوا مگر وفاق نے ایک پیسہ نہیں دیا وزیراعظم نے وعدے کئے مگر انہیں پورا نہ کر کے اسمبلی اور عوام کی تذلیل کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ وزیراعلیٰ سو رہے ہیں مگر وہ دبنگ فیصلے بھی کرتے ہیں انہوں نے وزیراعظم کی زیر صدارت این ای سی کے اجلاس کا بائیکاٹ کر کے دبنگ فیصلہ کیا ۔انہوں کہا کہ سی پیک کے تحت گوادر میں ایک پرائمری اسکول بنا ہے، ہماری سرحدیں استحصالی نظام کا ذریعہ بن گئی ہیں، صوبے نے محدود وسائل میں رہتے ہوئے بجٹ پیش کر کے آئینی ذمہ داری پوری کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم استحصالی نوآبادیاتی طرز حکمرانی کو مسترد کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وسائل کی تقسیم رقبے کے لحاظ ہونی چاہےے،18ویں ترمیم پر عملدآمد ،صوبے کو اختیارات دئےے جائیں۔ بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے جمعیت علماءاسلام کے رکن میر یونس عزیز زہری نے کہا کہ جھالاوان میڈیکل کالج کی دیوار 2016سے التوا کا شکار ہے اس بار بھی اس کے لئے رقم رکھی گئی ہے مگر خدشہ ہے یہ رقم خرچ نہیں کی جائےگی ۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹ میں نوکریاں بکنے کی باز گشت ہے میں ان پر یقین نہیں کرتا مگر حکومت نے 8ماہ پہلے جن آسامیوں پر ٹیسٹ انٹرویو لئے ان پر تعیناتی نہیں ہورہی ، جتنی بھی نورکریاں زیر التواءہیں ان پر بھرتی جلد از جلد مکمل کی جائے ۔انہوں نے کہا کہ 2018میں خضدار میں 160اسکول بند تھے اب 206ہوگئے ہیں وزراءمحض اپنے حلقوں تک محدود ہوگئے ہیں ۔پارلیمانی سیکرٹری خلیل جارج نے بجٹ کو بہترین قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاق بلوچستان کے بجائے دوسرے صوبوں کو فائدہ دے رہا ہے وزیراعلیٰ اور بلوچستان عوامی پارٹی کو خراج تحسین پیش کرتاہوں کہ انہوں نے مسیحی برداری کے لئے 30ایکڑ پر ہاﺅسنگ اسکیم کے لئے زمین الاٹ کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اقلیتوں کی عبادت گاہوں کو محفوظ بنانے کے لئے کروڑوں روپے خرچ کئے ہیں 250اقلیتی لوگوں کو روزگار فراہم کیا ہے، انہوں نے کہا کہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ملازمین کی تنخواہوں کا مسئلہ حل اور سن کوٹہ پر عملدآمد بھی یقینی بنائے جائیں ۔انہوں نے کہا کہ محدود وسائل میں اس سے اچھا بجٹ نہیں دیا جاسکتا تھا ۔ جمعیت علماءاسلام کے میر زابد علی ریکی نے کہا کہ کاش 2018میں بھی میر عبدالقدوس بزنجو وزیراعلیٰ ہوتے تو آج واشک کی حالت ماضی کی نسبت 50فیصد بہتر ہوتی ۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میں ناگ واشک سڑک کے لئے 1ارب روپے رکھے گئے ہیں جس سے پنجگور، گوادر، تربت تک سفر کم ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سیلاب متاثرہ علاقوں کے لئے 10ارب کا وعدہ کر کے 10روپے بھی نہیں دےے ۔وزیراعلیٰ محسن بلوچستان ہیں انکا ممون اور مشکور ہوں کہ انہوں نے واشک کو نوازا ہے ۔ جمعیت علماءاسلام کے رکن مولانا نور اللہ نے بجٹ کی تقسیم کو غیر منصفافہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف کوئٹہ ہی نہیں بلکہ پورے بلوچستان کو ترقی کی ضرورت ہے بجٹ میں استحصالی روےے کی مذمت کرتا ہوں بجٹ بلوچستان کے عوام کے لئے نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ میر ی اسکیمات کے مقامات کو تبدیل کر دیا گیا ہے اگر مسائل حل ہوتے تو شاید میں بجٹ کی مخالفت نہ کرتا مگر وزیراعلیٰ ایک ماہ سے ملاقات نہیں کر رہے عوامی نمائندوں سے ایسا رویہ مناسب نہیں ہے ۔بی این پی کے رکن ثناءبلوچ نے کہا کہ کوئٹہ پروجیکٹ کو کمشنر انتظامی افسران کے ذریعے کروانے سے خرابیاں پیدا ہوئیں آج اسمبلی کے باہر سریاب کے عوام بی این پی کے زیر اہتمام مظاہرے میں سراپا احتجاج ہیں ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو سے کام کروانے کی فائل روک دی گئی ہے اسپیکر رولنگ دیں کہ وزیراعلیٰ کے احکامات پر عملدآمد کیا جائے اور کوئٹہ پروجیکٹ کے منصوبوں پر کام 3ماہ میں مکمل کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ اسکیمات کی ایلوکشن کم ہے اسے بڑھا کر مکمل کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں منشیات کی فیکٹریاں عام ہیں ان کے خلاف کاروائی کی جائے وڈھ میں سردار اختر مینگل کے گھر کے قریب مورچہ بندی کی گئی ہے یہ عمل کرنے والے افراد کی حوصلہ شکنی کی جائے ۔ پشتونخواءملی عوامی پارٹی کے رکن نصر اللہ زیرے نے کہا کہ سریاب روڈ 5سال سے نامکمل ،شہر میں منشیات عام ہیں اسکولوں میں استاتذہ اور بی ایچ یوز میں سہولیات کی کمی کو پورا کیا جائے ۔صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ 2018میں منصوبوں میں پی ڈی تعینات کرنے کی روایت قائم کی گئی کوئٹہ پیکج کو کرپشن کا پیکج بنا دیا گیا موجودہ حکومت نے کوئٹہ پیکج کو محکمہ مواصلات و تعمیرات کے حوالے کرنے کے احکامات دئےے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ میرے گھر کے قریب دو لنک روڈ نہیں بن رہے جن سے ٹریفک جام رہتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ محدود وسائل میں رہتے ہوئے صوبائی حکومت نے منصوبوں کو فنڈز جاری کئے ہیں اگر وزیراعلیٰ سوتے تو صوبے میں ایساپی ایس ڈی پی نہیں بن سکتا تھا جسکی ایوان تعریف کرتا ۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میں کوئی حلقہ محروم نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پر بعض لوگ نشئی سمیت دیگر الزامات لگاتے ہیں جو درست نہیں اگر کوئی شخص ذاتی طور پر کچھ کرتا ہے تو اسکا اور اللہ کا معاملہ ہے کسی کو کوئی حق نہیں وہ ایسے الزامات لگائے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے حبیب نالے میں منشیات فروشوں کے خلاف آپریشن کیا یقین دلاتا ہوں کہ ایک دو روز میں دوبارہ ایساآپریشن کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت تمام قدآور شخصیات کی قدر کرتی ہے کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیں گے بد امنی کو پنپنے نہیں دیا جائے گا حکومت کسی بھی قبائلی جھگڑے میں فریق نہیں بنے گی ۔انہوں نے تربت دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تربت میں خاتون نے خودکش دھماکہ کیا اسکی مذمت کرتا ہوں بلوچستان کی رویات میں خواتین کو مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے خواتین تقدس کی مثال ہیں امن خراب کرنے کے لئے خواتین کو ڈھال بنانا بدترین عمل ہے ۔انہوں نے کہا کہ میرے حلقے میں ٹیلی فون ٹاور لگانے والوں کو افغانستان سے فون کر کے دھمکی دی گئی میں ان سے کہتا ہوں کہ وہ یہاں آئیں میری ان لوگوں سے دست بستہ گزارش ہے کہ وہ پانچ سال تک آرام سے بیٹھیں اور ہمیں ترقیاتی کام کرنے دیں اس کے بعد اگر کام نہ ہوا تو وہ اپنا موقف سامنے لائیں۔ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن قادر علی نائل نے کہا کہ کوئٹہ پیکج میں صرف سڑکیں نہیں بلکہ پارک اور دیگر منصوبے بھی ہیں کوئٹہ کے تمام ارکان کو شامل کر کے اس کا از سرنو جائزہ لیاجائے۔ڈپٹی اسپیکر سردار بابر موسیٰ خیل نے اس موقع پر رولنگ دی کہ چیف سیکرٹری کوئٹہ پروجیکٹ کو فوری طورپر محکمہ مواصلات و تعمیرات کے حوالے کرنے کو یقینی بنائیں اور منصوبے پر پیش رفت سے ارکان کو آگاہ کرکے اپنی رپورٹ پیش کریں ۔ڈپٹی اسپیکر نے مزید کہا کہ منشیات کا قلعہ قمع کرنے کے لئے اقدامات پر وہ مطمئن نہیں ہیں ہر ضلع میں گروہ ہیں جن پر لوگوں کا ہاتھ ہے آئی جی پولیس تمام اضلاع کے پولیس افسران کو ہدایت کرکے پابند کریں وہ منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاﺅن کریں ۔ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن قادر علی نائل نے ایوان میں بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں جاری اسکیمات کے لئے 170ارب جبکہ نئی اسکیمات کے لئے 58ارب روپے رکھے گئے ہیں یہ ایک آن گوئنگ بجٹ ہے جس کے اثرات 2024میں بھی وضع نہیں ہونگے ۔انہوں نے کہا کہ خدشہ ہے کہ نئی اسکیما ت پر کام نہیں ہوگا کوئٹہ کے لئے بجٹ میں کوئی میگا منصوبہ نظر نہیں آرہا صحت،تعلیم ،انفراسٹرکچر ، ٹریفک بیورو پر کام نہ ہونے کا خدشہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں ایک میڑوپولیٹن کارپوریشن اور چار ٹاﺅن بنائے گئے ہیں لیکن ان کے لئے کوئی پلاننگ نہیں ہے نہ ہی بجٹ میں کوئی منصوبہ شامل ہے ،مقامی فنانس کمیشن کے لئے بھی کچھ نظر نہیں آرہا تعلیم کے لئے 12جبکہ آبپاشی کے لئے 18ارب روپے مختص کئے گئے ہیں تعلیمی پر بجٹ کو زیادہ ہونا چاہےے تھا ۔ انہوں نے کہا کہ سیاحت اہم شعبہ ہے اس کے لئے خاطر خواہ منصوبے نہیں ہیں ، ماحولیاتی تبدیلی کے لئے صرف 22کروڑ روپے رکھے گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کے لئے کوئی گرڈ اسٹیشن تعمیر کرنے کا منصوبہ نہیں ہے مخصوص اضلاع کے لئے صحت میں 1ہزار جبکہ کوئٹہ کے لئے صرف 50پوسٹیں رکھی گئی ہیں اس بجٹ میں ذاتی فنڈ اسکیمات کو کنٹرول کیا جائے ۔ صوبائی وزیر صحت سید احسان شاہ نے ایوان میں بجٹ پر اکیلے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ایوان میں میرے علاوہ کوئی نہیں لیکن میں باتیں ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں ۔انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ کی معاونت کے بغیر صوبہ ترقی نہیں کرسکتا ہر وفاقی حکومت کہتی ہے کہ وہ پانچ سال میں بلوچستان کو دیگر صوبوں کے برابر لا ئے گی مگر ایسا نہیں ہوتا ۔انہوں نے کہا کہ وسائل کی تقیسم آبادی کے ساتھ ساتھ رقبے کے لحاظ سے بھی ہونی چاہےے وفاق نے کہا ہے کہ ملک میں خسارہ ہے آج بلوچستان کا نوجوان پوچھ رہا ہے کہ جب مالی حالات ٹھیک تھے تب بلوچستان پرکیوں توجہ نہیں دی گئی ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے ریکوڈ ک کا تاریخی معاہد ہ کیا ہے جس کے ثمرات مستقبل میں آئیں گے ۔انہوں نے کہا کہ پی پی ایل کے ذمے بلوچستان کے 55 ارب روپے واجب الادا ہیں جن میں سے 30ارب روپے پر کوئی بھی تنازعہ نہیں لیکن اس کے باوجود بھی یہ پیسے ادا نہیں کئے جارہے حکومت کو یہ معاملہ سی سی آئی یا سپریم کورٹ میں لیکر جانا چاہےے۔ نہوں نے کہا کہ صحت پر ہر سال 60ارب روپے خرچ ہوتے ہیں لیکن لوگ بی ایچ یوز میں نہیں جاتے یہاں کے ڈاکٹر حکومت بلوچستان سے تنخواہ لیکرلندن میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ صوبے کا غیر ترقیاتی بجٹ 500ارب کے قریب اس لئے ہے کہ سروس ڈیلیوری کی جائے مگریہ نہیں ہورہا ،بی ایریا میں تعلیمی ادارے بند ہیں کسی صوبے نے استاتذہ کو ٹائم اسکیل نہیں دیا بلوچستان میں ٹائم اسکیل اس لئے دیا گیا تاکہ استاتذہ اسکولوں میں جائیں ۔اجلاس میں بجٹ پربحث میں حصہ لیتے ہوئے صوبائی وزیر محمدخان لہڑی کا کہنا تھا کہ وزیر علی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی قیادت میں حکومت نے صوبے کی تاریخ کا بہترین عوامی بجٹ پیش کیا ہے جسمیں تمام طبقات کےلئے فنڈز مختص کئے ہیں اس لیے حکومتی اراکین کے ساتھ اپوزیشن اراکین بھی عوام دوست بجٹ کی تعریف کر رہے ہیں ۔بعدازاںڈپٹی اسپیکر نے اجلاس آج شام چار بجے تک ملتوی کردیا۔


