کوئٹہ تاریخی طور پر پشتون افغان شہر ہے، 1967ءتک بلدیہ کوئٹہ میں کوئی بلوچ امیدوار نہیں تھا، محمود اچکزئی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) پشتونخوا میپ کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انگریز 1907ءکے گزیٹر میں لکھتا ہے کہ کوئٹہ تاریخی طور پر پشتون افغان شہر ہے۔ مشہور تاریخ دان ہیروڈوٹس اور دیگر نے بھی کہا ہے کہ کوئٹہ تاریخی طور پر کاسی، بازئی، یاسین زئی اور درانی پشتون قبیلوں کا پٹوار سرکل، تپہ اور ہر لحاظ سے ان کی ملکیت ہے۔ جنوبی پشتونخوا کے علاقے افغانستان سے الگ کرکے اس میں مری اور بگٹی کے بلوچ علاقے شامل کیے گئے اور اس طرح 1886ءمیں برٹش بلوچستان کے نام سے پہلا چیف کمشنر صوبہ تشکیل دیا گیا جوکہ پاکستان بننے کے بعد ون یونٹ کی تشکیل تک قائم تھا۔ خان آف قلات نے بھی ایک خط کے ذریعے حکومت کو لکھا تھا کہ ہم پشتونوں کی تاریخی سرزمین کو اپنی بلوچ ریاستوں میں زبردستی شامل نہیں کرانا چاہتے، سوائے کوئٹہ کے ایک کونے کے۔ آج کچھ لوگ کہہ رہے کہ پشتون کوئٹہ افغان جنگ کے بعد آئے جبکہ کوئٹہ تاریخی طور پر پشتون شہر رہا ہے۔ 1967ءتک کوئٹہ کے میونسپل کارپوریشن میں کوئی بلوچ امیدوار ہی نہیں تھا۔ 1967ءمیں پہلی دفعہ اکبر بگٹی کے بھائی احمد نواز نے میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں حصہ لیا اور انہیں شکست ہوئی۔ کوئٹہ ہماری سیاست کا مرکز ہے۔ کوئٹہ میں بہترین جماعت بنانے کا اثر باقی ضلعوں پر بھی پڑے گا۔ کوئٹہ کے ابتدائی یونٹس، علاقائی یونٹس، تحصیل اور ضلع کی بہترین تنظیم سازی پر تمام کارکنان داد کے مستحق ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں