وڈھ میں حالات کی خرابی کے ذمہ دار سانحہ توتک میں ملوث لوگ ہیں، خضدار میں بی این پی کی پریس کانفرنس

خضدار (بیورو رپورٹ) بلوچستان نیشنل پارٹی ضلع خضدار کے صدر میر شفیق الرحمن ساسولی، مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن چیئرمین لعل جان بلوچ، ضلعی جنرل سیکرٹری عبدالنبی بلوچ، بی ایس او کے مرکزی وائس چیئرمین حفیظ بلوچ اور بی این پی تحصیل خضدار کے صدر میر سفر خان مینگل ودیگر نے کہا ہے کہ وڈھ میں کوئی قبائلی تنازعہ نہیں وڈھ کے حالات خراب کرنے میں وہی عناصر ملوث ہیں جو قبل ازیں سانحہ توتک اور سانحہ لیویز شہداءچیک پوسٹ میں ملوث تھے حکومتی ادارے اپنے کارندوں کے ذریعے وڈھ کے پرامن حالات کو خراب کرکے حقیقی سیاسی قیادت کو راستے سے ہٹانے یا ان کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ بی این پی کی قیادت نے پہلے بھی کٹھن حالات کا مقابلہ کیا ہے اور اب بھی حالات کا مقابلہ کرکے بلوچ قوم اور بلوچستان کے عوام کی خدمت جاری رکھیں گے۔ سانحہ توتک و سانحہ لیویز شہداءچیک پوسٹ کے کرداروں کیخلاف کارروائی کی جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے خضدار پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر بی ایس او کے سابق چیئرمین رشید بلوچ، بی این پی کے ضلعی رہنماﺅں حیدر زمان بلوچ، میر صادق غلامانی، ایڈووکیٹ غلام نبی بلوچ، آغا سمیع شاہ سمیت بی این پی، بی ایس او کے رہنماءبڑی تعداد میں موجود تھے۔ قبل ازیں بی این پی و بی ایس او کے زیر اہتمام وڈھ کی صورتحال کو خراب کرنے کیخلاف احتجاجی ریلی بھی نکالی گئی۔ ریلی بی این پی و بی ایس او کے ضلعی سیکرٹریٹ سے بی این پی کے مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن لعل جان بلوچ، ضلعی صدر شفیق الرحمن ساسولی، بی ایس او کے مرکزی وائس چیئرمین حفیظ بلوچ کی قیادت میں برآمد ہوئی۔ ریلی کے شرکاءمختلف شاہراہوں سے گزرتے ہوئے خضدار پریس کلب پہنچے۔ بعد ازاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بی این پی اور بی ایس او کے مرکز ی و ضلعی رہنماﺅں کا کہنا تھا کہ وڈھ میں جو ہو رہا ہے وہ آج سے نہیں بلکہ کافی وقتوں سے ہورہا ہے اور ان واقعات کا پس منظر بلوچستان کی صورتحال کو اس نہج تک پہنچانے والے عناصر ہیں، وڈھ کی صورتحال کو سمجھتے کے لئے ہمیں بلوچستان کی صورتحال، بلوچ قومی تحریک، بلوچ حقیقی قیادت کا بلوچ و بلوچستان کے مسائل پر اٹھنے والی آوازوں ان آوازوں کو دبانے کے لئے کی جانے والی سازشوں اور ان سازشوں میں مرکزی کردار ادا کرنے والے عناصر کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ 2012ءمیں خضدار کے امن کو تہہ و بالا کرنے کی صورتحال کا جائزہ لینا ہوگا تب جا کر صورتحال سمجھ میں آئے گی، اس لیے بی این پی یہ وضاحت کرنا ضروری سمجھتی ہے کہ وڈھ میں کوئی قبائلی تنازعہ نہیں بلکہ شہیدوں کے ورثاءبلوچ قوم کی حقیقی قیادت اور تخریب کاری پھیلانے والے کرداروں کے درمیان تنازعہ ہے، جس کا قبائلیت سے نہیں بلکہ انسانیت سے تعلق ہے۔ بی این پی اور بی ایس او کے مرکزی وضلعی قائدین کا کہنا تھا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب کچھ بلوچ قومی قیادت سردارا ختر مینگل کو محدود کرنے کی کوششوں کا تسلسل ہے، جنہیں نہ پہلے کامیابی ملی اور نہ اب کامیابی ملے گی، ہم ایسے عناصر کی پشت پناہی کرنے والوں سے گزارش کرتے ہیں کہ ان کی پشت پناہی کرنے کے بجائے سانحہ توتک اور سانحہ لیویز شہداءچیک پوسٹ کے کرداروں کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پرامن سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں اور ہماری کامیابی کا راز بھی یہی ہے لیکن ہمارے مخالفین کو ہماری پر امن جدوجہد راس نہیں آتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں