اسرائیل کے پناہ گزین کیمپ پر فضائی حملے، 8 فلسطینی جاں بحق ،50 سے زائد زخمی

غزہ (مانیٹرنگ ڈیسک)مغربی کنارے میں واقع جنین پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی فضائیہ کی بمباری کا سلسلہ جاری ہے، جس میں اب تک 8 فلسطینی جاں بحق اور 50 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔عینی شاہدین نے عرب ٹی وی کو بتایا کہ کم از کم 10 فضائی حملے کیے گئے جن میں سے ایک میزائل حملہ تھا۔ اس دوران درجنوں بکتر بند گاڑیوں نے جنین کی پناہ گزین کیمپ کو چاروں اطراف سے گھیرے میں لے رکھا تھا۔زخمیوں میں سے کئی کی حالت نازک ہونے کے سبب ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔عینی شاہد کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے نوجوانوں کو بروقت اسپتال لے جانے کی اجازت دی جاتی تو جانیں بچائی جا سکتی تھیں، لیکن بکتر بند گاڑیوں کے حصار کے باعث زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے کے لیے ایمبولینسوں کو راستہ نہیں ملا۔کئی زخمیوں کو مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت طبی امداد فراہم کی۔فلسطینی وزارت صحت کے مطابق ایک 21 سالہ نوجوان محمد حسنین کو رام اللہ میں اسرائیلی فوج نے گولی مار کر جاں بحق کیا۔اقوام متحدہ نے جنین میں اسرائیل کی جانب سے جدید فوجی ہتھیاروں کے استعمال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پناہ گزین کیمپ میں حالات کافی کشیدہ ہیں۔ ایمبولینسیں زخمیوں تک نہیں پہنچ پا رہی ہیں جس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔دوسری جانب اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا کہ جنین میں فلسطینی عسکری مزاحمتی تنظیموں کے ایک مشترکہ آپریشن سینٹر کو نشانہ بنایا جو کمانڈ سینٹر کے طور پر کام کرتا تھا اور یہ جدید مشاہدے اور جاسوسی مرکز اور ہتھیاروں اور دھماکہ خیز مواد کی جگہ کے ساتھ ساتھ فلسطینی جنگجوں کے لیے رابطہ کاری اور مواصلاتی مرکز کے طور پر کام کرتا تھا۔اسرائیلی فوج نے اپنے دعوے کے ثبوت کے طور پر ایک فضائی تصویر بھی فراہم کی جس میں ہدف کے مقام یعنی کمانڈ سینٹر کو دکھایا گیا۔ اس کمانڈ سینٹر کے نزدیک دو اسکول اور ایک طبی مرکز بھی واقع تھا۔اسرائیلی فوج کے ترجمان نے دعوی کیا کہ جنین کے کیمپ میں آپریشن کے دوران انتہائی مطلوب فلسطینی عسکریت پسندوں کو گرفتار اور دھماکا خیز مواد ضبط کیا گیا ہے۔اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق ضبط شدہ بارودی مواد وہی ہے جسے گزشتہ ماہ جنین پناہ گزین کیمپ پر چھاپے کے دوران اسرائیلی فوج کے خلاف استعمال کیا گیا تھا اور جس سے 8 اسرائیلی فوجی زخمی ہوگئے تھے۔ عرب ٹی وی کے نمائندے نے رام اللہ سے رپورٹنگ کرتے ہوئے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے جس بارودی مواد کو ضبط کرنے کا دعوی کیا ہے۔ اس گھریلو ساختہ دھماکہ خیز مواد نے اسرائیلی افواج کو حیران کر دیا تھا اور اسی مواد کے ڈر سے زمینی کارروائی کے بجائے اسرائیلی فوج نے میزائل گرانے کے لیے ہیلی کاپٹر کا استعمال کرنا درست سمجھا، رپورٹر نے مزید بتایا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے جسے ہم نے پناہ گزین کیمپ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں تقریبا 20 برسوں میں دیکھا ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ ماہ 20 جون کو بھی اسرائیلی فوج نے جنین کے پناہ گزین کیمپ میں فضائی حملہ کیا تھا جس میں 6 فلسطینی جاں بحق اور 90 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں