بلوچستان میں 2022-21ءکے دوران 32 ارب 63 کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

کوئٹہ (این این آئی) بلوچستان میں مالی سال 2021-22کے دوران 32ارب 63کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں اور صوبے کے بجٹ کا11فیصد سے زائد حصہ خرچ نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔آڈیٹرجنرل آف پاکستان نے آڈٹ سال 2022-23میں مالی سال 2021-22کے بجٹ کا جائز ہ لیا۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں ایک مالی سال کے دوران 129کیسز میں 32ارب 63کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔ خبر رساں ادارے این این آئی کو موصول ہونے والی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مالی سال 2021-22کے دوران بلوچستان حکومت بجٹ کا 11.67فیصد حصہ یعنی 53ارب 44کروڑ روپے خرچ نہیں کر سکی جو صوبائی حکومت کی حکمت عملی پر سوالیہ نشان ہے جبکہ صوبائی حکومت کی جانب سے ترقیاتی کاموں پر بجٹ کا صرف 29فیصد خرچ کیا گیا جو کہ انتہائی کم ہے۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق محکمہ بورڈ آف ریونیو بلوچستان میں 3ارب39کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیاں ہوئیں جن میں 2099.7ملین روپے کے غیر قانونی اخراجات شامل ہیں محکمے نے33.7ملین روپے سے زائد کا ریکارڈ پیش نہیں کیاجبکہ رپورٹ میں محکمے سے 1260ملین روپے سے زائد کی ریکوری کی سفارش کی گئی ہے۔محکمہ انڈسٹریزمیں2ارب 17کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں ہوئیں جن میں 2092.6ملین روپے کے غیر قانونی اخراجات اور 85.4ملین روپے کی ریکوری کی سفارش شامل ہےں ۔محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات بلوچستان میں 1ارب 78کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی جن میں سے 1ارب 74کروڑ روپے کے بے قاعدہ اخراجات شامل ہیں جبکہ محکمے سے 37.4ملین روپے کی ریکوری کی سفارش کی گئی ہے ۔محکمہ مواصلات و تعمیرات میں کل 1ارب 87کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیاں ریکارڈ ہوئیں جن میں 843.2ملین روپے کے اخراجات شامل ہیں جبکہ 1033.9ملین روپے کی ریکوری کی سفارش کی گئی ہے ۔ رپورٹ میںمحکمہ صحت بلوچستان میں کل 3ارب 89کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیاں پائی گئیں جن میں سے 3776.3ملین روپے کے غیر قانونی اخراجات شامل ہیں آڈٹ رپورٹ میں محکمے سے 120ملین روپے کی ریکوری کی سفارش کی گئی ہے ۔محکمہ مائنز اینڈ منرلز میں4ارب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیاں ہوئیں جن میں 3042.017ملین کے غیر قانونی اخراجات شامل ہیں جبکہ 977.8ملین روپے کی ریکوری کی سفارش کی گئی ہے۔محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ میں 2ارب 45کروڑ روپے سے زائد کے غیر قانونی اخراجات ہوئے جس میں 1179.8ملین روپے کی مالی بے ضابطگیاں جبکہ 1271.6ملین روپے کی ریکوری شامل ہےں ۔ رپورٹ کے مطابق بلوچستان پولیس میں 1ارب 38کروڑ روپے سے ائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا جس میں سے 240.8ملین روپے کا ریکارڈ پیش نہیں کیاگیا ،601.2ملین روپے کے بے قاعدہ اخراجات ہوئے اور 538.2ملین روپے کی ریکوری کی سفارش کی گئی۔رپورٹ کے مطابق محکمہ زراعت میں 263.3ملین روپے کی بے ضابطگیاں ہوئیں جبکہ 209ملین روپے ریکوری کی سفارش کی گئی ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محکمہ ہائیر ایجوکیشن میں 959.2ملین روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں ہوئیں جن میں سے 781.2ملین روپے کے غیر قانونی اخراجات اور 178ملین روپے کی ریکوری شامل ہے اسی طرح محکمہ خزانہ میں 480.8ملین روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی جن میں 351ملین روپے کے غیر قانونی اخراجات شامل ہیں جبکہ129.7ملین روپے کی ریکوری کی سفارش کی گئی ہے ۔محکمہ خوراک میں 213.2ملین روپے سے زائد کے غیر قانونی اخراجات ہوئے جبکہ 50.2ملین روپے کی ریکوری کی سفارش کی گئی ہے ۔محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میں 686.211ملین روپے کی ریکوری کی سفارش کی گئی ۔رپورٹ میں محکمہ لائیوسٹاک میں 194.5ملین روپے کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی جس میں 177.9ملین روپے کے غیر قانونی اخراجات جبکہ 16.5ملین روپے کی ریکوری کی سفارش شامل ہےں ۔بلوچستان میں محکمہ آبپاشی میں 312.6ملین روپے کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی جن میں سے 3.9ملین روپے کے غیر قانونی اخراجات جبکہ 308.6ملین روپے کی ریکوری کی سفارش کی گئی ہے۔آڈٹ رپورٹ میں محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی میں 70.9ملین روپے کی مالی بے ضابطیگیاں ہوئیں جن میں 37.5ملین روپے کے غیر قانونی اخراجات جبکہ 33.4ملین روپے کی ریکوری شامل ہے ۔رپورٹ میں صوبے کے خود مختار اداروں کا بھی آڈٹ تیا ر کیا گیا ہے جنکی فہرست علیحدہ ہے ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے صوبے کے تین محکموں محکمہ خزانہ، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے لئے کسی بھی اسکیم پر عملدآمد نہیں ہوا جبکہ پی ایچ ای کے لئے 20فیصد اسکیمات رکھی کی گئیں جن میں سے بیشتر واٹر سپلائی اسکیمات تھیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ”دیگر اسکیمات“ نوعیت کے 21منصوبوں پر4ارب 64کروڑ روپے کے اخراجات آئے جن پر کام کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کے ذریعے کیا گیا تاہم یہ کام کرنے کے لئے محکمے موجود تھے۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق پی ایس ڈی پی میں 28شعبوں میں سے 24ایسے تھے جن میں صرف 1فیصد سے کم ایلوکیشن رکھی گئی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرکاری محکموں کی جانب سے 62کروڑ روپے کی رقم کا ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا، 25ملین سے زائد رقم فراڈ اور خرد برد کی نذر ہوئی،حکومت کو 12مقامات پر 39کروڑ روپے سے زائد کا نقصان دیا گیا جبکہ 29ایسے مواقعوں کا مشاہد ہ بھی کیا گیا ہے جن میں 2ارب 29کروڑ روپے سے زائد کی زائد ادائیگیاں کی گئیں۔رپورٹ کے مطابق صوبے کو ٹیکسز اور ڈیوٹیز کی مد میں ادائیگیاں نہ کرنے پر 2ارب 27کروڑ روپے سے زائد کا نقصان پہنچا ہے۔آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ میں 22.726ارب روپے کی ریکوری کی نشاندہی کی گئی جس میں سے دسمبر 2022تک 1ارب 27کروڑ روپے سے زائد کی رقم ریکور کی گئی۔آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محکموں کی جانب سے ریکارڈ کی عدم فراہمی سنگین نوعیت کی بے ضبطگی ہے جس سے آڈٹ میں خلل پیدا ہوتا ہے،آڈٹ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے جو افسران ریکارڈ کی عدم فراہمی کے ذمہ دار ہیں انکے خلاف تادیبی کاروائی عمل میں لائی جائے۔آڈٹ رپورٹ میں یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ خرد بردکے معاملات کی بھی محکمانہ تحقیقات کر کے ذمہ داروں کے خلاف تادیبی کاروائی عمل میں لائی جائے جس سے مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کی جاسکے۔رپورٹ میں یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ خلاف ضابطہ اخراجات پر تحقیقات کر کے ذمہ داروں کا تعین،زائد ادائیگیوں کی واپسی،ٹیکسز کی بروقت وصولی کو یقینی بنایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں