ہرنائی اور زیارت میں بدامنی کے واقعات کیخلاف 17 جولائی کو بلوچستان اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا جائے گا، آل پار ٹیز ہرنائی
کوئٹہ: آل پار ٹیز ہرنائی کے رہنماﺅں نے کہا ہے کہ ہرنائی اور زیارت میں رو نماءہونے والے بدامنی کے واقعات میں دو ٹھیکیداروں سمیت متعدد مزدور شہید جبکہ کئی ٹرکوں کو جلایا گیا ہے جس سے معمولات زند گی بری طرح متاثر ہو کر رہ گئی ہے ، ہرنائی اور زیارت کی آل پارٹیز نے بد امنی کے واقعات کے خلاف17 جولائی کو بلوچستان اسمبلی کے سامنے دھرنا ، 21 کو سنجاوی اور 24 جولائی کو زیارت میں احتجاجی جلسے منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بات نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے صوبائی صدر احمد جان ،عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکر ٹری مابت کا کا ،پشتونخواءملی عوامی پارٹی کے رہنماءعیسیٰ روشان ، ملک مجید کاکڑ، ملک مغیع اللہ ترین، مولوی عبدالخالق ، مولوی عبدالمالک شیرانی نے ہفتہ کوکوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ہرنائی اور زیارت میں رو نماءہونے والے بدامنی کے واقعات اور بھتہ خوری سے علا قہ کا انفراسٹکچر تباہ اور ٹرانسپورٹرز سمیت کاروباری حضرات متاثرہ ہو کر رہ گئے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ سیکورٹی کی مد میں اربوں روپے خرچ کئے جا تے ہیں لیکن عوام آج بھی غیر محفوظ ہے ہرنائی اور زیا رت سمیت صوبے میں بھتہ خوری اور بد منی کے واقعات میں کمی ہو نے کے بجائے دن بدن اضا فہ ہو تا جا رہا ہے جس سے عوام میں خوف و اہراس پایا جا تا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کوئٹہ ہرنائی شاہراہ پر 32ٹرکوں پر حملہ مانگی کے مقام پر ٹرکوں کو جلایا جبکہ سنجاوی میں 2ٹھیکیداروں کو شہید کیا گیا جس سے علا قے کے عوام خود کو غیر محفوظ تصور کر تے ہےں ۔ انہوں نے کہاکہ کوئٹہ تا ہر نائی شاہراہ کو 14،14گھٹنوں تک بند کیاجا تا ہے جس پر ہرنائی اور زیارت کی آل پارٹیز نے فیصلہ کیا ہے کہ جمہوری انداز میں مسئلے کو صوبائی سطح پر اٹھانے کے لئے 17 جولائی کو بلوچستان اسمبلی کے سامنے دھرنا ، 21 کو سنجاوی اور 24 جولائی کو زیارت میں احتجاجی جلسے منعقد کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر اس تحریک کے بعد بھی واقعات میں کمی رو نماءنہیں ہو ئی تو ایک مر تبہ پھر اجلاس طلب کر کے سیا سی جماعتوں کے ہمراہ صوبے بھر میں احتجاج کی کال دیں گے ۔ انہوں نے 18جولائی کو انجمن تاجران بلو چستان کے زیر اہتمام ہو نے والی شٹر ڈاﺅن ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ہرنائی اور زیا رت میں رو نماءہو نے والے واقعات کی روک تھام ، بھتہ خوری کے خاتمے کے لئے قانون سازی کی جائے ۔ انہوں نے کہاکہ علا قے میں بد امنی کے واقعات کا رو نماءہونا اور بھتہ خوری غیر قانو نی اقدام ہے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو تحفظ فراہم کرے ۔ انہوں نے کہاکہ ضلع میں جنگل کا قانون ہو نے کی وجہ سے رو نماءہونے والے بد امنتی کے واقعات کے مقدمات تک درج نہیں کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ 26جون سے ہرنائی اور زیا رت میں کاروبار بند پڑے ہوئے ہیں جس سے بے روز گاری کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ کوئٹہ تا ہرنائی قومی شاہراہ کو بحال ،تبادہ شدہ 11ٹرکوں اور شہید ہونے والے 2ٹھکیداروں کو معاوضہ فراہم کیا جائے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی آبادی سے سیکورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں کا خاتمہ، اور ڈرون کیمروں کے استعال پر پابند ی عائد کی جائے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ کوئٹہ تا ہرنائی قومی شاہراہ کو سیکورٹی فورسز کی جانب سے بند کیا گیا ہے ، حکومت اور سیکورٹی فورسز کی ذمہ داری ہے بنتی ہے کہ وہ بھتہ خوری میں ملوث عناصر کو بے نقاب کر کے انکے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جا ئے ۔


