فائر بریگیڈ کی ناکارہ مشینری اور نا اہل عملہ چمن میں آتشزدگی سے جھلسنے والوں کو بچانے میں ناکام رہا، این ڈی ایم

چمن (آن لائن) گزشتہ روز کے حادثے میں فائر بریگیڈ حکام کی نااہلی کی وجہ سے 5 افراد آگ میں جلس گئے جس میں ایک 14 سالہ بچہ باپ کے سامنے لقمہ اجل بن گیا، چار افراد آگ میں جلس کر شدید زخمی ہوگئے، اس موقع پر مرک نامی این جی او جن کا بھاری بجٹ ہونے کے باوجود 14 لاکھ آبادی کیلئے صرف ایک واحد ایمبولینس ہے نے بھی زخمی اٹھانے سے انکار کردیا تھا جس کی وجہ سے بھی زخمیوں کا وقت پر ہسپتال نہ پہنچنے پر حالت غیر ہوگئی تھی، زخمیوں کو لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ہسپتال منتقل کیااین ڈی ایم چمن، نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے صوبائی کمیٹی ممبر جاوید خان اچکزئی اور ضلعی عہدیداروں نے اپنے پریس ریلیز میں کہا کہ منی پیٹرول پمپ میں آگ لگنے والے دن عینی شاہدین کے مطابق جاں بحق ہونے والے بچہ بار بار سامنے کھڑے اپنے والد کو مدد کیلئے پکارتا رہا اور جواب میں والد نے کہا کہ بیٹے بچانے کیلئے فائر بریگیڈ پہنچنے والا ہے، ابھی بچا لے گا لیکن اس کے باوجود دیر سے پہنچنے والے فائر بریگیڈ کا جب وال کھولنے کی کوشش کی گئی تو افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ اس دوران وال خراب ہونے کے وجہ سے نہ کھل سکا جس کے وجہ سے بچہ والد کے سامنے آگ کا لقمہ بن کر جل گیا اس دوران کھڑے تمام افراد زار و قطار روتے رہے اور فائر بریگیڈ کا عملہ بچے کو بچانے میں مکمل طور پر ناکام رہا اس کے علاوہ رہی سہی کسر چمن کے نام پر بھاری بھر کم بجٹ لینے والا مرک نامی این جی نے پوری کردی کیونکہ 14 لاکھ آبادی کیلئے واحد ایک ہی ایمبولینس جس کا ہیڈ کوارٹر چند گز کے فاصلے پر ہونے کے باوجود زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے سے صاف انکار کرنا سمجھ سے بالاتر ہے یا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مرک نامی این جی کا یہاں مقصد کچھ اور ہے اور صرف عوام کو دھوکہ دینے کیلئے یہ ایمبولینس سروس کا نام دیا گیا این ڈی ایم کے عہدیداروں نے مزید کہا کہ اس طرح کے واقعات میں ضلعی انتظامیہ کے اعلی حکام کے جانب سے کوئی ایکشن نہ لینا سوالیہ نشان ہے اس میں ملوث عناصر کے خلاف سخت ایکشن لے اور ساتھ ہی ساتھ ہم صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ غریب خاندان کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں