پشاور میں تخریب کار حملوں میں تھرمل ویژن اسنائپر اور ایم فور رائفلز کا استعمال کیا گیا، آئی جی خیبرپختونخوا
پشاور(صباح نیوز) ریگی ماڈل ٹاؤن کی پولیس ناکہ بندی پر شر پسندوں نے ایک بار پھر تھرمل ویپنز کا استعمال کیا جس سے 2پولیس اہلکار جاں بحق اور2زخمی ہوگئے تھے۔ آئی جی خیبرپختونخوا اختر حیات خان کا کہنا ہے کہ پشاور میں شر پسندوں نے رات کی تاریکی میں تھانا ریگی ماڈل ٹاؤن کی حدود میں پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا، حملے میں ایک بار پھر شر پسندوں نے تھرمل ویژن اسنائپر اور ایم فور رائفلز کا استعمال کیا۔ آئی جی کے مطابق شر پسندوں نے 30 میٹر کے فاصلے سے 17 فائرکیے جس سے2 پولیس اہلکار جاں بحق اور 2 زخمی ہوئے جبکہ شر پسند باآسانی فرار ہوگئے۔ دوسری جانب خیبرپختونخوا کے سابق آئی جی کے مطابق تھرمل ویپنز ہر طرح کے موسم میں دن رات کسی بھی جگہ استعمال کیا جا سکتا ہے، اس آلے کی رینج تقریبا 3 کلومیٹر ہوتی ہے، اس کو اسنائپر رائفل، گرینیڈ لانچرز، ہیوی اور لائٹ مشین گنز پر نصب کیا جاسکتا ہے۔ سکیورٹی ماہرین کے مطابق امریکی فوج افغانستان سے انخلاکے بعد کم وبیش 7 ارب ڈالرز مالیت کا جنگی سازوسامان چھوڑ گئی تھی ۔ اسنائپر رائفل کو پہلی بار تھرمل سائیٹ کے ساتھ تھانا سربند پر حملے میں استعمال کیا گیا تھا، خیبرپختونخوا حکومت نے بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں شر پسندوں کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے جدید اسلحہ فراہم کیا۔ تھرمل ویپنز کا مقابلہ کرنے کے لیے خیبر پختونخوا کے 4 اضلاع کی پولیس کو جدید اسلحہ فراہم کیا گیا تاہم طویل عرصے سے شر پسندی کا شکار پشاور پولیس تاحال اس سے محروم ہے۔


