وڈھ مسئلے پر بنائی گئی مصالحتی کمیٹی جنگ بندی برقرار رکھنے کیلئے سازشی عناصر پر نظر رکھے گی، حاجی لشکری

خضدار (این این آئی) سیاسی رہنماءسابق سینیٹر نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے کہا ہے کہ نواب اسلم رئیسانی نے وڈھ تنازعہ کو ختم کرنے کے سلسلے میں دونوں فریقین سے ٹیلیفون پر بات چیت کی اور 21 جولائی بروز جمعہ کو ہم سیاسی و قبائلی شخصیات کے وفد کے ہمراہ وڈھ کے لئے روانہ ہوئے ، وڈھ پہنچے کے بعد دونوں فریقین سے ملاقات کی اور بات چیت کے ذریعے معاملات کو حل کرنے کی ابتداءکی، جس کے نتیجے میں دونوں فریقین نے اس بات پر آمادگی ظاہر کی کہ جنگ بندی ہو اور مسئلے کا حل تلاش کیا جاسکے ، جمعہ کو خضدار میں قیام کے بعد ہم دوبارہ بروز ہفتہ وڈھ کے لیئے روانہ ہوئے دونوں فریقین سے ملاقات کے بعد یہ طے پایا کہ جنگ بندی کو برقرار رکھا جائے گا اور مسئلے کی مستقل حل کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی تاکہ مسئلے کا مستقل حل تلاش کیا جاسکے ۔وڈھ مسئلے پر اپنا ایک پیغام جاری کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مصالحتی کمیٹی کو فریقین کی جانب سے دو دو ارکان پر مشتمل نمائندگی دی جائے گی تاکہ فریقین کی نمائندگی ہو۔ کمیٹی کے سربراہ سینیٹر مولانا فیض محمد سمانی ہوں گے، کمیٹی کنوینر وڈیرہ غلام سرور موسیانی ہوں گے جو کمیٹی کے ممبران سے رابطے کریں گے اور تنازعہ کے مختلف پہلوﺅں کو دیکھتے رہیں گے تاکہ سازشی عناصر کو روکا جاسکے اور امن کو برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ سردار اسد مینگل کی جانب سے دیے گئے ناموں میں آغا سلطان ابرہیم اور مولانا عبد الصبور مینگل جبکہ میر شفیق الرحمن مینگل کی جانب سے میر شہزاد غلامانی اور میر محمد مینگل کا نام دیا گیا ہے۔ کمیٹی 24 جولائی سے اپنا کام شروع کریگی، حاجی لشکری رئیسانی نے علاقے کے خیرخواہ، معتبرین اور علماءسے یہی اپیل کی ہے کہ اس امن کو برقرار رکھنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ حاجی لشکری رئیسانی نے مصالحتی کمیٹی کی جانب سے وڈھ کے فریقین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں ان کا مشکور ہوں کہ انہوں نے ہمارا بھرپور ساتھ دیا جس سے ہم بلوچستان کے لوگ بڑے سانحہ سے بچ گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں