پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں سے 6 افراد جاں بحق، کوئی اموات نہیں ہوئیں، حکومتی ترجمان بابر یوسفزئی

کوئٹہ(آن لائن )وزیر اعلی بلوچستان کے ترجمان بابر یوسفزئی نے کہا ہے کہ پری مون سون کی بارشوں کے باعث اب تک 9اموات ہوئی تھیں حالیہ مون سون بارشوںسے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا فورٹ منرو،خضدار، رتو ڈیرو، روڈ بند ہے جبکہ بولان میں پنجرہ پل کے قریب چھوٹی گاڑیوں کیلئے راستہ بحال کر دیا گیا ہے آج سے مون سون بارشوں کا اسپیل آرہا ہے ان خیالات کااظہار انہوں نے سوموار کو پی ڈی ایم اے کے کنٹرول روم کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا بابر یوسفزئی کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر پی ڈی ایم اے کے کنٹرول روم کا دورہ کیا ہے جس کا مقصد بلوچستان میں حالیہ بارشوں سے پیدا ہونے والی صورت حال اور پی ڈی ایم اے کی جانب سے متاثرین کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات کا جائزہ لینا تھا ان کا کہنا تھا کہ پری مون سون بارشوں کے باعث 9انسانی جانیں ضائع ہوئی تھیں حالیہ مون سون بارشوں سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی انہوں نے بتا یا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو بارشوں کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال اور لوگوں کو درپیش مشکلات سے فکر مند تھے کیونکہ بلوچستان کو پنجاب سے ملانے والی شاہراہ فورٹ منرو کے مقام پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث پنجاب روڑ بند ہے اس کے علاوہ خضدار تا رتو ڈیرو روڈ بھی ٹریفک کیلئے بند ہے بولان کے مقام پر پنجرہ پل کے قریب سڑک کو بحال کر کے چھوٹی گاڑیوں کی آمد و رفت کیلئے کھول دی گئی ہے آج سے مون سون بارشوں کا ایک اور اسپیل آرہا ہے حکومت اور انتظامیہ نے انتظامات کئے ہیں جس طرح گزشتہ سیلاب میں پی ڈی ایم اے نے مثالی کام کیا تھا اور لوگوں کی بروقت مدد کی تھی اب بھی پی ڈی ایم اے الرٹ ہے انشااللہ صوبائی حکومت اپنے لوگوں کو بھرپور ریلیف دے گی اور متاثرین کی ہر حوالے سے مدد کرے گی ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کو مسلسل نظر انداز کر رہی ہے جس کا واضح ثبوت صوبے کو اس کے حق کے فنڈز بھی نہیں دئے جا رہے اور گزشتہ سیلاب کے دوران متاثرین کی داد رسی اور بحالی کیلئے جو اعلانات کئے گئے ان پر عمل درآمد یقینی نہیں بنایا گیا حکومت نے اپنی مدد آپ کے تحت لوگوں کی مدد کی ہے اس کے علاوہ بولان کے علاقے کوئٹہ ٹو سبی ،جیک آباد اور دیگر علاقوں کو ملانے والی قومی شاہراہ کے پنجرہ پل کے مقام پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے پل تعمیر کرنا ہے جس کی تا حال تعمیر شروع نہیں کی گئی جس کی وجہ سے بارش کے باعث سیلابی ریلوں اور مذکورہ ندی میں پانی کے باعث عارضی بنایا جانے والا راستہ پانی کے باعث بند ہو جاتا ہے جس سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے حکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے ہنہ اوڑک میں لوگوں ہونے والے نقصانات کے ازالہ کیلئے اقدامات کر رہی ہے بارشوں سے نقصانات ہوئے ہیںاور صورتحال بھی کنٹرول میں ہے ۔ علاوہ ازیں بلوچستان میں جاری مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں6 افراد جاں بحق ہوگئے، 8 مکانات، فصلوں اور رابطہ سڑکوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے فیصل پانیزئی کے مطابق حالیہ بارشوں سے اموات آواران، قلعہ سیف اللہ، ژوب اور نصیر آباد کے علاقوں میں ہوئیں، 8 سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا، کھڑی فصلیں، رابطہ سڑکیں بھی متاثر ہوئی ہیں ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے نے لسبیلہ میں بارشوں سے متاثرہ علاقوں کا دورہ بھی کیا، انہوں نے کہا کہ بارشوں سے متعلق تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ سے متعلق مراسلہ ارسال کر دیا تھا دوسری جانب محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران زیارت میں 39، باکھان 16، لورالائی 15، لسبیلہ 14، اوتھل 12، خضدار 10، کوئٹہ 9، اوستہ محمد 5 اورماڑہ، پنجگور اور سبی میں ایک ایک ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ محکمہ موسمیات کا مزید کہنا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران شمال مشرقی بلوچستان اور ساحلی علاقوں میں مزید بارشوں کا امکان ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں