بلوچستان حکومت سیلاب سے متاثرہ منگچر کے زمینداروں کی داد رسی کرے، جمعیت علما اسلام

منگچر (نمائندہ انتخاب) سیلاب کو ایک برس بیت گیا، متاثرین تا حال امداد کے منتظر ہیں، سیلاب سے زمینداری کو کروڑوں کے نقصانات ہوگئے۔ ان خیالات کا اظہار جمعیت علماءاسلام کے رہنماءکونسلر وڈیرہ محمد اسلم لہڑی، کونسلر ٹکری عبدالکریم لہڑی، کونسلر مولا بخش بنگلزئی ودیگر رہنماو¿ں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ 25جولائی 2022ءکو آنے والے سیلاب کو پورا ایک سال مکمل ہوگئے، سیلاب سے سیکڑوں مکانات منہدم کروڑوں کی فصلات تباہ ہوئیں جس سے سب تحصیل جوہان کے دیہی علاقوں نرمک میں کئی لوگ گھروں سے بے گھر ہوگئے تھے تاحال بے گھر ہیں 25جولائی کو آنے والے سیلاب نے ضلع کا انفراسٹرکچر کو تباہ کردیا تھا سیلاب نے ہر طرف تباہی مچادی دی تھی، قلات سے لیکر منگچر تک درجنوں مکانات تباہ ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کوئی ترقیاتی کام شروع نہ ہوسکا ہے قلات میں زمیندار بھی سیلاب سے بری طرح متاثر ہوئے تھے 25جولائی کو آنے والے سیلاب نے قلات میں عام لوگوں سمیت زمینداروں کو بھی کافی حد تک نقصان ہوا تھا بلکہ زمیندار مقروض ہوگئے کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں تھی پورے قلات میں سیلاب نے تباہی مچا دی تھی لوگ بے یارو مدد گار تھے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی و صوبائی حکومت کی جانب سے سیلاب متاثرین کی مدد نہیں گئی تھی لوگ اب بھی کئی گھروں سے بے گھر کھلے آسمان تلے زندگی بسر کررہے ہیں لیکن ان کی داد رسی کوئی نہیں ہورہی ہے حکومت کی جانب سے مدد نہ کرنا حکومت کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے اتنے بڑے سیلاب میں لوگ گھروں سے بے گھر ہوگئے زمینداروں کی کھڑی فصلات اور مرکزی شاہراہ پر پل ٹوٹ گئے ایک سال میں حکومت کی کوئی کارکردگی نہیں ہے جس سے واضح ہے کہ صوبائی حکومت کو عوام سے کوئی سروکار نہیں ہے اور عوام کو بے یارو مدد گار چھوڑدیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں