ریکوڈک منصوبے کی اہم پوسٹوں پر غیر بلوچیوں کی تعیناتی مقامی افراد سے زیادتی ہے، نیشنل پارٹی
نوکنڈی (آن لائن) نیشنل پارٹی چاغی کی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ بیرک گولڈ کے سی ای او نے نوکنڈی وکوئٹہ میں اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ کی گئی میٹنگز میں یہ باور کرایا تھا کہ ریکوڈک میں سب سے پہلا حق مقامی آبادی یعنی ضلع چاغی پھر رخشان ڈویڑن اور پھر بلوچستان کے لوگوں کا ہوگا اور یہ یقین دلایا تھا کہ کمپنی مقامی آبادی کو ترجیح دے گی اور انہیں باقاعدہ شراکت داری دی جائیگی، مقامی باصلاحیت نوجوانوں کو ٹریننگ دیکر پروجیکٹ کو چلانے میں مددگار بنایا جائے گا مگر حالات اب تک بالکل برعکس ہیں، ملازمتوں کی خرید و فروخت و دیگر مراعات پر اب تک غیر بلوچ اور کراچی و دیگر غیر بلوچستانیوں کے ہاتھوں ریکوڈک پروجیکٹ مکمل یرغمال بنی ہوئی ہے، سب سے بڑا دھوکہ یہاں سے آشکار ہوچکا ہے کہ ریکوڈک ضلع چاغی بلوچستان میں موجود ہے مگر ایچ آر آفس کراچی اورکوئٹہ میں قائم کیے گئے ہیں، دونوں آفس میں غیر بلوچوں کو ہم پر مسلط کرکے کھلی چھوٹ دی گئی ہے اس لیے اب تک کراچی اور کوئٹہ آفس سے بلوچ دشمن سوچ کے تحت اہم کلیدی اور ٹیکنیکل اسامیوں پر مقامی بلوچ نوجوانوں کو سائیڈ لگا کر غیر بلوچوں کو بھرتی کیا جارہا ہے اور مقامی آبادی اور نوجوانوں کے ساتھ یہ رویہ اور ناانصافیاں اب ناقابل برداشت بن گئی ہیں جوکہ بیرک گولڈ کے حق میں بہتر نہیں جائے گا۔ بیان میں کہا گیاہے کہ مقامی نوجوانوں کو فورتھ کلاس اورچھوٹے ملازمتوں پر لاکر پروفیشنل اسامیوں پر غیر بلوچوں اور غیر بلوچستانیوں کو کھپائے جانے کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے جس کی واضح مثال حالیہ انٹرنیشنل گریجویٹی پروگرام سمیت ایچ آر کی پوزیشنوں کراچی اور کوئٹہ سے غیر بلوچوں کو شارٹ لسٹ کرکے مقامی نوجوانوں کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی۔ HR منیجر و دیگر نہ چاغی کا رخ کرنے کی زحمت کرتے ہیں نہ ہی وہ یہاں کے حالات سے شناسائی رکھتے ہیں، اسی طرح کوئٹہ آفس میں ایڈمن کی پوزیشنز پر مطلوبہ تجربہ اور اہلیت نہ رکھنے کے باوجود غیر مقامی نان بلوچ کو ترجیح دی گئی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ چین سپلائی میں بھی مقامی تجربہ کار نوجوانوں کو بائی پاس کرکے کراچی سے بھرتی کیا گیا ٹریول کوآرڈینیٹر اور لائسنسنگ و پرمٹنگ کی پوزیشنز پر مقامی اہل اور تجربہ کار نوجوانوں نے اپلائی کیا ہے، یہاں بھی غیربلوچوں کو بھرتی کرنے کی سازشیں ہورہی ہیں۔ ریکوڈک میں ابتک جو کچھ ہورہا ہے وہ مکمل طور پر بلوچ کش پالیسیوں کا تسلسل لگ رہا ہے، یہ صاف نظر آرہا ہے کہ ریکوڈک پروجیکٹ پر کراچی ودیگر ایسے غیر بلوچ افسران نے ایسے افراد جمع کر رکھے ہیں جو کمپنی اور کمیونٹی کے درمیان بہتر تعلقات اور تعاون کی پرواہ نہیں رکھتے بلکہ وہ یہاں لوٹ مار اور اپنے لوگوں کو نوازنے کو ترجیح دے رہے ہیں اور بیرک گولڈ جوکہ ایک شہرت یافتہ بین الاقوامی کمپنی ہے وہ بھی یہاں کے لوگوں کو پروموٹ کرنے اور ترجیح دینے کے لیے سنجیدہ نہیں، اب تک تمام اہم ملازمتوں اور شعبوں مثلا اکا?نٹنٹ ایچ آر انجینئرنگ جیالوجی جیوٹیکنیکل مائننگ انجینئر سمیت دیگر پروفیشنل اسامیوں پر مقامی باصلاحیت اور قابل نوجوانوں کو مکمل سائیڈ لگا کر غیر بلوچوں کو لایا گیا ہے۔ دوسری جانب مقامی کاروباری حلقوں کو بھی مکمل نظر انداز کرکے کراچی کے وینڈرز کے ذریعہ خریداری کی جارہی ہے جوکہ اب ناقابل برداشت بن گئی ہے اور نیشنل پارٹی وعوامی حلقوں کی جانب سے خدشات درست ثابت ہورہے ہیں، جس سے یہاں کے لوگوں کے غم و غصہ اور مایوسی میں اضافہ ہورہا ہے۔ بیرک گولڈ کمپنی کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ کمیونٹی کے تعاون کے بغیر پروجیکٹ کو کامیاب بنانے کا خیال صرف ایک خواب ہی ہوسکتا ہے۔ نیشنل پارٹی بیرک گولڈ کے سی ای او و دیگر مینجمنٹ سے مطالبہ کرتی ہے کہ مقامی آبادی کے خدشات و تحفظات کو دور کرکے ان کی تجاویز کو اہمیت دیں اور انہیں انکا حق مکمل دینے کے لیے کمپنی میں لائے، کراچی و دیگر غیر بلوچ ایسے افسران کا محاسبہ کی انکوائری کریں جن کی سوچ بلوچ دشمنی اور لوٹ مار ہو۔ نیشنل پارٹی مرکزی وصوبائی قیادت کے سامنے تمام صورتحال لاکر قیادت کے مشورے سے اپنا لائحہ عمل طے کرے گی اور ریکوڈک مینجمنٹ میں موجود بلوچ دشمن افیسران کو خبردار کرتی ہے کہ چاغی کی سرزمین اور عوام لاوارث نہیں۔


