صوبائی بجٹ میں اپوزیشن کو اعتماد میں نہیں لیا جارہا،ملک نصیر شاہوانی

اوستہ محمد:بلوچستان نیشنل پارٹی(مینگل)کے پارلمانی لیڈرو رکن صوبائی اسمبلی ملک نصیراحمد شاہوانی نے کہا کہ بجٹ میں اپوزیشن ارکان کو اعتماد میں نہیں لیا جارہا ہے وفاقی بجٹ میں بلوچستان کو مکمل نظر انداز کیا گیا اس پر ہمارے قائد سردار اختر جان مینگل اور مرکزی قائدین اس کے بارے لائحہ عمل تیار کریں گے، موجود صو بائی حکومت کوئٹہ پیکچ کو اپنا نام دے کر کام کو عوام کے سامنے خود کو سرخرو کر رہا ہے چھ نکات پر کچھ عمل درآمد ہو چکا ہے کورونا کے بارے میں صوبائی حکومت کی نااہلی سے کورونا کی وباپھیل رہی ہے احساس پروگرام سے بلوچستان میں صرف2فیصد مستحق لوگوں کو رقم مل رہے ہیں کئی ہفتے گرز جانے کے بعد باوجود پٹرول کے بحران ختم نہیں ہوسکے۔ ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے پارلمانی لیڈرو رکن صوبائی اسمبلی ملک نصیراحمد شاہوانی نے اوستہ محمد پریس کلب کے انفارمیشن سیکرٹری محمد رفیق پندرانی اور نصیرآباد کے سینئر صحافی امیر بخش گجر سے ملاقات کے دوران بات چیت کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی کونسلر ثنا مسرور اورسابق ڈپٹی چیف آرگنائزر بی ایس او اوستہ محمد عطا اللہ مینگل موجود تھے ملک نصیر احمد شاہوانی نے کہا کہ حکومت کورونا وائرس کو کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے عوام کو صیح معنوں پر ہدایت نہ پر کورونا کی وبا بڑی تیزی پہل رہی ہیں انہوں نے کہا کہ صوبائی بجٹ میں اپوزیشن کے 23ارکانین کو اعتماد میں نہیں لیا جارہا ہے عوام کی بنیادی حقوق کیلئے پر امن ریلی پر پولیس نے ہمیں روکا گیا اور اس کو غلط رنگ دے کر خود چمکایا چاہتے ہیں اپوزیشن ارکان عوام کی حقوق کی پاسداری کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرئے گے انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومتوں کی جانب سے کوئٹہ شہر کیلئے چند اسکمیات منظور ہوئے جن کوموجود حکومت اپنا نام کا بورڈ لگارہی ہیں ان اسکیمات میں غیر منتخب لوگوں کے ذریعے کام کیئے جارہے ہے ایک سوال کے جواب ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے چھ نکات میں سے ایک اہم نکات مسنگ پرسن کا تھا اب تک 700 سے زاہد افراد بازیاب ہوچکے ہیں باقی نکات پر عمل درآمد کیلئے وفاق سے بات چیت ہورہی ہیں بلوچستان نیشنل پارٹی ایک عوامی پارٹی ہے جو عوامی حقوق کیلئے ہمیشہ اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں