ہمارے دور حکومت میں بلوچستان کو مسلح جتھوں سے نجات اور اختر مینگل کی وڈھ آمد ممکن ہوئی، نیشنل پارٹی

کوئٹہ (این این آئی) نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان نے گزشتہ روز معروف صحافی حامد میر کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے صدر سردار اختر مینگل کی جانب سے کی گئی گفتگو کہ ”نیشنل پارٹی کے دور حکومت میں انکے ساتھ ظلم کیا گیا“ پر پارٹی موقف دیتے ہوئے موصوف کے موقف کو زمینی حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے رد کردیا۔ پارٹی ترجمان نے واضح کیا ہے کہ نیشنل پارٹی سیاسی وجمہوری رویوں کا حامل جماعت ہونے کے ناطے سیاسی رواداری پر یقین رکھتی ہے۔ بی این پی کے صدر سمیت ان کی جماعت سے منسلک سیاسی کارکناں کے لیے نیشنل پارٹی نے ہمیشہ سیاسی جمہوری اور دوستانہ رویہ رکھا ہے۔ ترجمان نے کہا جب نیشنل پارٹی نے اقتدار سنبھالا تو بلوچستان مسلح جتھوں کے نرغے میں تھا جس کے باعث سیاسی عمل پر غیر اعلانیہ قدغن لگ چکی تھی۔ نیشنل پارٹی کی حکومت کی سیاسی و انتظامی حکمت عملی کی بدولت ان مسلح جتھوں کو آہستہ آہستہ غیر مسلح کردیا گیا اور امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی جس کی بدولت بی این پی مینگل کے صدر خود ساختہ جلاوطنی ترک کرکے اپنا علاقہ وڈھ تشریف لائے اور اپنی سیاسی سرگرمیاں آزادانہ طور پر کرنے لگے۔ قبل ازیں 2008ءسے 2013ءتک وڈھ سمیت خضدار اور جھالاوان نو گو علاقے بن چکے تھے۔ ترجمان نے کہا نیشنل پارٹی کے دور حکومت میں جب وڈھ میں قباہلی تنازعہ پیدا ہوا تو نیشنل پارٹی نے سردار اسلم جان بزنجو، سردار کمال خان بنگلزئی، نواب محمد خان شاہوانی، میر کبیر محمد شہی، میر خالد لانگو پر مشتمل وفد وڈھ روانہ کرکے مصالحتی کردار ادا کیا جس کے باعث امن کا قیام ہوا، یہ مثبت مصالحتی کردار آج بھی ادا کررہے ہیں۔ ترجمان نے کہا پارٹی کے دور وزارت اعلیٰ میں جہاں حکومتی ممبران اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز ریلیز ہوئے وہیں بی این پی کے صدر کے کہنے پر بی این پی کے ممبران اسمبلی کو بھی فنڈز ریلیز کیے گئے۔ ترجمان نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر خضدار نے الیکشن کے کسی تنازعہ کے باعث جب بی این پی کے کارکنوں کیخلاف ایف آئی آر درج کی تو صوبائی حکومت نے ایکشن لیتے ہوئے ا±س وقت کے ڈی سی خضدار کا تبادلہ کیا۔ ترجمان نے مزید کہا کہ نیشنل پارٹی سیاست میں الزام تراشی کی قاہل نہیں، شائستگی اور باہمی احترام ہمارا طرہ امتیاز ہے۔ جمہوری سیاسی اقدار پر یقین رکھتے ہوئے الزام تراشی کا قائل نہیں اور نہ ہی بے جا الزام تراشی کو برداشت کرتی ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ زیر نظر بیان بھی ریکارڈ کی درستگی کے لیے جاری کیا جارہا ہے بصورت دیگر اس شکوہ جواب شکوہ سے مجموعی عوام اکتا چکے ہیں۔ ترجمان نے واضح کیا کہ بے شک قدوس بزنجو اور صادق سنجرانی سے بی این پی مینگل کے خصوصی تعلقات ہونگے مگر اس کا قطعی طور پر یہ مطلب نہیں ہونا چاہیے کہ نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹر مالک بلوچ کے پرخلوص جذبات رواداری بحثیت سیاسی رہنما وسیع نظری پر قدوس بزنجو اور صادق سنجرانی کو ترجیح دیکر سیاسی و تاریخی حقائق سے روگردانی کی جائے۔ اس منطق کا کوئی سیاسی و اخلاقی جواز نہیں بنتا کہ مقتدرہ کے پیداوار جماعت کے کچھ زعما قابل قدر اور ان کے ساتھ تعلقات یارانہ و مشفقانہ اور بعض ناقابل قبول ہوں سیاسی ڈکشنری میں ایسی سوچ کو موقع پرستی و مصلحت پسندی سے آشکار کیا جاتا ہے جو قوم دوستی و وطن دوستی کے لیئے زہر قاتل ہے۔ ترجمان نے واضع کی ہے کہ معمولی نوعیت کے علاقائی گروہی مفادات کے لیئے بےشک دوستانہ تعلقات قائم کیئے جاہیں مگر اس کے لیئے نیشنل پارٹی یا اس کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناکر مصلحتوں اور موقع پرستی کی نئی رقم شدہ تاریخ چاک کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں