پاکستان کے حکمرانوں سے بہتری کی امید نہیں، مٹھی بھر لوگوں نے کروڑوں لوگوں کو غلام بنایا ہوا ہے، رہنما نیشنل پارٹی

کوئٹہ، کراچی (آن لائن) طبقاتی جدوجہد کے زیر اہتمام ”برصغیر کی تقسیم اور آج کے حالات“ کے عنوان سے ایک مباحثے کا اہتمام کیا گیا۔ مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدر مخدوم ایوب قریشی نے کہا کہ ہندوستان برطانوی سامراج کی سب سے بڑی کالونی تھی، نہ صرف رقبے کے لحاظ سے بڑی تھی بلکہ یہ قدرتی وسائل سے مالامال جفاکش اور ہنرمند محنت کشوں کا وطن تھا لیکن نااہل حکمرانوں کی وجہ سے برطانیہ اتنے بڑے ملک پر قابض ہوا۔ برطانیہ جو آج ترقی یافتہ ملک کہلاتا ہے اس کی ترقی کی بنیاد بھی اسی سونے کی چڑیا کے وسائل کی لوٹ مار پر رکھی گئی ہے۔ برطانیہ مارکیٹ میں ہندوستانی کاریگروں کے بنائے ہوئے کپڑے کا مقابلہ نہیں کرسکتا تھا، اس لیے ہندوستانی کپڑے کے مقابلے میں اپنے کپڑے کی مارکیٹ کو مستحکم کرنے کے لیے ہندوستانی کپڑے پر غیر منصفانہ اور بھاری ٹیکسز عائد کر رکھے تھے۔ دوسری عالمی جنگ کے تباہ حال برطانیہ کو جب آزادی کی تحریکوں کا سامنا کرنا پڑا تو اس نے سامراجی مفادات کے تحت ہندوستان کو آزاد کرنے کے بجائے اس کی تقسیم کے فارمولے پر کام کیا جس کی ایک وجہ یہ تھی کہ ہندوستان میں محنت کشوں کی پرجوش تحریکیں چل رہی تھیں اور یہ نظریاتی طور پر انقلاب روس سے متاثر تھیں آزادی کے بعد ہندوستان کا حکمران طبقہ اتنا مضبوط اور منظم نہیں تھا کہ وہ اتنے بڑے ملک کے اقتدار کو سنبھال سکتا اور یہاں سرمایہ دارانہ نظام کو قائم رکھ سکتا۔ دوسرا خطرہ یہ تھا کہ روس میں محنت کش طبقے کی حکومت قائم ہونے اور سوویت یونین بن جانے کے بعد سوشلزم کے دنیا بھر میں پھیلاﺅ کا تھا اس صورتحال کے تدارک کے لیے ایک بفر اسٹیٹ کی ضرورت تھی حالانکہ افغانستان ایک بفر اسٹیٹ کی صورت میں پہلے سے موجود تھا لیکن سامراج افغانستان کو اتنا قابل اعتماد نہیں سمجھتا تھا جتنا کہ پاکستان کو سمجھا گیا۔ برطانوی سامراج نے ہندوستان میں مذہب کے نام پر نفرتیں پیدا کیں اور تقسیم کے لیے مذہب کو جواز بنایا گیا حالانکہ تقسیم کے اصل مقاصد کا مذہب سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔ ہندوستان کی تقسیم انسانی تاریخ کا عظیم المیہ ہے، جس میں لاکھوں لوگ قتل ہوئے، جائیدادیں لوٹی گئیں، عصمتیں تاراج ہوئیں اور انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت ہوئی اور پھر یہ سلسلہ کہیں نہیں رکا، کسی نہ کسی شکل میں بربادیوں کا یہ سفر آج بھی جاری ہے۔ آج ہندوستان ایک ریاست کی حیثیت سے دنیا کی چوتھی بڑی طاقت بن چکا ہے لیکن مذہبی جنون بھی عروج پر ہے اور وہاں کے محنت کشوں کے حالات بھی نہیں بدلے، ادھر ہمارے ملک کے حکمران اتنے بودے اور نالائق ہیں کہ یہاں ملک کو ناکام ریاست کے درجے تک لے آئے ہیں، اب ہمارے ملک میں ضرورت زندگی کی چیزوں کے دام عالمی مالیاتی ادارے طے کرتے ہیں، ایسی بدترین صورتحال میں ریاست کو بچانے اور عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے اگر امید کی کوئی کرن باقی ہے تو وہ محنت کش طبقے کا اتحاد ہے۔ پاکستان کے حکمرانوں سے بہتری کی کوئی بھی امید رکھنا دھوکہ کھا نے کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں۔ محنت کشوں کی تنظیموں کو ایک بار پھر ماضی کی غلطیوں کا جائزہ لیتے ہوئے منظم جدوجہد کے لیے تیاری کرنا ہوگی، اصل آزادی وہی ہوگی جب محنت کش طبقہ آزاد ہوگا، یہ آزادی استحصالی طبقے کی آزادی ہے، اس نظام میں آزادی کے نام پر مٹھی بھر لوگوں نے کروڑوں لوگوں کو غلام بنایا ہوا ہے، مباحثے سے ذکا اللہ، ڈاکٹر جے پال چھابڑیا، ریاض لنڈ اور جنت حسین نے بھی خطاب کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں