زیارت میں اسمگلروں نے کسٹم انسپکٹر کو اغوا کرلیا، عملے پر تشدد، سامان ساتھ لے گئے

کوئٹہ (یو این اے) پاکستان کسٹمز کی اہم چیک پوسٹ زیارت کراس پر 16 اگست کی رات 25 کے قریب مسلح افراد نے حملہ کرکے انسپکٹر قربان علی سمیت متعدد کسٹم اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے انسپکٹر قربان سمیت 2 سپاہیوں کو کسٹمز کی گاڑی کے ڈالے میں ڈال کر بوستان لیویز پولیس اسٹیشن لے گئے۔، مغوی انسپکٹر اور کسٹمز حکام کی جانب سے بعد میں لکھے گئے مراسلے کے مطابق 13 اگست کی رات دلاور نامی ایک شخص اپنے اسمگلنگ کے سامان کی کچھ گاڑیاں زیارت کراس کی چیک پوسٹ سے گزارنے چاہتا تھا، وہ کسٹمز حکام سے اس سلسلے میں بات چیت کرتا رہا لیکن ناکامی پر تلخ کلامی کرتے ہوئے واپس چلا گیا۔ بعد ازاں 16 اگست کو دلاور اپنے 50 کے قریب مسلح ساتھیوں کے ساتھ دوبارہ چیک پوسٹ پر آیا اور آتے ہی انسپکٹر قربان اور دیگر پر دھاوا بول دیا، دلاور اور ان کے ساتھی انسپکٹر قربان اور عملے کو زدوکوب کرتے ہوئے پہلے لیویز تھانہ بوستان لے گئے، جہاں لیویز نے کوئی مداخلت نہیں کی، لیٹر کے مطابق بعد میں دلاور نے کسٹمز کے دو انسپکٹرز مقبول جمالی اور آصف رفیق سے فون پر رابطہ کرکے اطلاع دی کہ انسپکٹر قربان اور کسٹمز کی گاڑی ان کے قبضے میں ہے اور وہ بوستان کے مقام پر ہائی وے پر زیر تعمیر تکاتو ہوٹل پر موجود ہے، انسپکٹرز کے وہاں جانے پر اسمگلرز اور عملے میں دوبارہ منہ ماری ہوئی، تاہم عملے کی پہلی ترجیح زخمی انسپکٹر قربان کو حفاظت سے بازیاب کرانا تھا، جنہیں وہاں سے سیدھا کوئٹہ کے سنڈیمن اسپتال لایا گیا۔ اسمگلرز اسی رات دوبارہ زیارت کراس پر حملہ کرکے اسلحہ اور اسٹور میں پڑا متروکہ سامان اپنے ساتھ لے گئے۔ یاد رہے کی کسٹمز پوسٹس پر بلوچستان بھر میں حملے اور عملے کو زدوکوپ کرنے کے واقعات اب معمول بن چکے ہیں، جو زیادہ تر رپورٹ بھی نہیں ہوتے، ستم یہ ہے کہ نئے آنے والے ایڈیشنل کلکٹر کسٹمز کوئٹہ عمر شفیق جس نے عملے پر حد سے زیادہ سختی کی ہوئی ہے، خود دو دن تک مذکورہ واقعے سے لا علم تھے اور اب تک ان کی جانب سے کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں