کیسکو کو ہر ماہ 10 ارب کا نقصان ہورہا ہے، بقایا جات 840 ارب روپے تک پہنچ گئے، واپڈا ہائیڈرو یونین
کوئٹہ (این این آئی) آل پاکستان واپڈاہائیڈروالیکٹرک ورکرز یونین(سی بی اے) بلوچستان کے رہنماﺅں محمد رمضان اچکزئی،عبدالحئی، عبدالباقی لہڑی، محمدیارعلیزئی ، ملک محمد آصف، منظور حسین اور سید آغا محمد نے ایک مشترکہ اخباری بیان کے ذریعے ڈیرہ مراد جمالی کے علاقے میں ٹرانسفارمر کی فنی خرابی کی وجہ سے ایک گھر کے 4 افراد اور دوسرے گھر کے 1 فرد کی بجلی کے کرنٹ سے اموات پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیسکوکے قائمقام چیف ایگزیکٹو آفیسراورکیسکو انتظامیہ کے افسران نے مختلف علاقوں میںڈرائنگ و ڈیزائن کے برعکس غیرقانونی طورپر ٹرانسفارمر کی کمپنی کی سطح پر اور پرائیویٹ سطح پر مرمت کا کوئی نوٹس نہیں لیا اسی طرح پورے صوبے کے ہر سب ڈویژن میں ٹرانسفارمرلگا کر جس طرح بجلی چوری کی جارہی ہے اس کی وجہ سے کیسکو کو ہرماہ 8 سے 10ارب روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ کیسکو کے بقایاجات 840ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں اور کیسکو کے چیف ایگزیکٹوآفیسر اسلام آباد اور لاہور سے چند دن کیلئے کوئٹہ آکر سیاسی بنیادوں اور دیگر ذرائع سے تعیناتیوں اورکیسکو کے رولز پالیسی، ڈرائنگ اور ڈیزائن کے برخلاف کرپشن پر مبنی جاری کاموں کی روک تھام پر توجہ نہیں دیتے جس کی وجہ سے کیسکو میں ڈسپلن کا خاتمہ ہوچکا ہے، سینئرکی جگہ جونیئرافسرسفارشی اور فرمائشی طریقوں سے تعینات ہوکر کیسکو کے مفاد کے بجائے ذاتی مفادات کیلئے کام کرتے ہیںیہی وجہ ہے کہ کیسکو کے 132 ہنرمند کارکن شہید ہوچکے ہیں جبکہ اس سے زیادہ تعداد میں کارکن معذور ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسٹاف کی کمی کی وجہ سے معیاری ٹی اینڈ پی، پی پی ای، گاڑیوں اور سیکورٹی کے بغیر چار ، چار بندوں کا کام ایک کارکن سے لیا جارہاہے جس کی وجہ سے کیسکو کا پورا ڈسٹری بیوشن نظام ناکارہ ہوچکا ہے اوریہی وجہ ہے کہ جس ٹرانسفارمر پر حادثہ ہوا ہے وہ پرائیویٹ طور پر بنایا گیا تھاجس کی وجہ سے 5 قیمتی جانیں ضائع ہوگئی ہیں۔یونین رہنماﺅں نے وفاقی وزیر پاور ڈویژن اور اعلیٰ افسران سے مطالبہ کیا ہے کہ کیسکو کے موجودہ قائمقام چیف ایگزیکٹو آفیسر کو اس دلخراش واقعے کا ذمہ دار ٹھہراکر انہیں ملازمت سے برطرف کیا جائے اور ان کے دور میں کیے گئے افسروں کے تبادلوں، سرکاری کاموں، ٹینڈرز اور نیلامی میں بڑے پیمانے پر ہونے والی کرپشن کی اعلیٰ سطحی انکوائری کرکے کیسکو میں اہل اورایماندار چیف ایگزیکٹو آفیسر تعینات کرکے بجلی چوری روکنے، ریکوری اہداف حاصل کرنے اور کیسکو کارکنوں اور پرائیویٹ لوگوں کی جانوں کو بچانے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔یونین رہنماﺅں نے کہا کہ کیسکو میں کارکنوں کی بھرتیاں کی جائیں ، کارکنوں کو کام کے دوران سیکورٹی دی جائے، معیاری پی پی ای، ٹی اینڈ پی فراہم کی جائے اور یونین کی طرف سے بھیجے گئے ایجنڈے پر فوری میٹنگ کا اہتمام کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ یونین کے زیر اہتمام پورے بلوچستان میں 21اگست سے 25 اگست تک ہفتہ مطالبات کے سلسلے میں مظاہرے کیے جائیں گے تاکہ کیسکو میں بہتری کیلئے وفاقی حکومت یونین کے پیش کیے گئے مطالبات پر عملدرآمد کرے۔


