ماضی کی غیرفطری حلقہ بندیاں سیاسی مخالفین کو ٹارگٹ کرنے کیلئے کی گئیں، سعد رفیق

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان مسلم لیگ (ن)کے سینئررہنما اورسابق وفاقی وزیر برائے ریلوے وہوابازی خواجہ محمد سعد رفیق نے کہا ہے کہ ماضی کی غیرفطری حلقہ بندیاں سیاسی مخالفین کو ٹارگٹ کرنے کیلئے کی گئیں۔ان خیالات کااظہار خواجہ سعد رفیق نے ہفتہ کے روز ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں کیا جبکہ اپنے ایک ٹویٹ میں خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ اپنے عہد اقتدار میں چیئرمین پی ٹی آئی اور انکے سپانسرز جیلوں میں مقید اپوزیشن لیڈرز سے بدسلوکی کرواتے اورانہیں جیل مینول کے مطابق سہولتیں دینے میں برملارکاوٹ ڈالتے رہے مگرحکومت انکی اہلیہ کی درخواست کوسنجیدگی سے لے،انہیں Bکلاس ہوم فوڈ ،اڈیالہ جیل منتقلی ،ذاتی معالج کی سہولت دی جائے ۔انہوںنے کہا کہ نئی مردم شماری کے بعدحلقہ بندیوں کی تشکیل ِ نو آئین کی روح کے عین مطابق احسن اقدام ہے، ماضی کی غیرفطری حلقہ بندیاں سیاسی مخالفین کو ٹارگٹ کرنے کیلئے کی گئیں ، میرے قومی حلقے کے تین ٹکڑے کئے گئے اوراسکے نیچے 6 صوبائی حلقے جوڑے گئے، ایسی بے قاعدگیوں سے گریزلازم ہے۔ خواجہ سعد رفیق نے کہاکہ فطری حدود کا احترام کیا جائے ، ایک قومی حلقے کے نیچے دو مکمل اور ایک جزوی صوبائی حلقہ تشکیل دیا جانا چاہیے تاکہ دوران انتخابات ووٹر کو کنفیوژن سے بچایا جائے ،انتخابی مہم آسان ہو ،الیکشن کے بعدعلاقائی تعمیر و ترقی اور سیاسی جماعتوں کیلئے عوامی رابطہ کاری آسان رہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں