مر دم شماری میں 70 لاکھ آبادی کو کٹ لگاکر بلو چستان کو اندھیروں کی طرف دھکیلا جارہا ہے، آل پارٹیز اولسی کمیٹی

کوئٹہ (این این آئی) آل پارٹیز اولسی کمیٹی برشور توبہ کاکڑی ضلع کے پشین کے رہنماﺅں نے کہا ہے کہ حالیہ ڈیجیٹل مر دم شماری میں بلو چستان کی 70لاکھ آبادی کو کٹ لگاکر بلو چستان کوایک با پھر اندھیروں کی طرف دھکیلا جا رہا ہے ، بند کمروں میں بیٹھ کر بلو چستان کی آبادی پر کٹ لگانا پشین تحصیل برشور کے عوا م کے ساتھ ظلم کے مترادف ہے ۔ یہ بات آل پارٹیز اولسی کمیٹی برشور توبہ کاکڑی ضلع کے پشین کے رہنماﺅں نعمت اللہ کاکڑ، داﺅد خان، عزیز اللہ، کلیم اللہ، کفایت اللہ نے پیر کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کر تے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ 1998اور2017میں مردم شماری کے دوران بلو چستان کے علا وہ آبادی میں غیر معمولی اضا فہ ریکارڈ کیا گیا جسے سیا سی جماعتوں اور بلو چستان کے عوام نے قبول نہیں کیا ۔ انہوں نے کہاکہ سابق وزیر اعظم کی صدارت مشترکہ مفادات کو نسل اجلاس میں بلو چستان کی آبادی میں 70لاکھ کٹو تی کی گئی جو کہ بلو چستان کے عوام کے ساتھ سر اسر ظلم اور نا انصافی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ 1998سے 2017تک تر قی کی شرح میں اضا فہ کار رحجان ہے جبکہ 2023میں اس میں کمی واقع ہو ئی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ پشین صوبے کے گنجان آبادی اضلاع میں سے ایک ہے جس کا رقبہ 6200سکوائےر کلو میٹر ہے 1998کی مردم شماری کا قوم پرست پارٹیوں کے کہنے پر 70فیصد عوام نے مردم شماری سے بائیکاٹ کیا تھا جس کی وجہ سے ضلع پشین میں مردم شماری ریکارڈ نہیں ہوئی تھی۔ انہوں نے کہاکہ 2023میں ڈیجیٹل مردم شماری کے دوران پشین کی کل آبادی 1365000ریکارڈ کی گئی جس پر 38فیصد ناجائز اور نارواکٹ لگایا گیا جس کی بھر پور الفاظ میں مذمت کر تے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بلو چستان کے عوام محرومیوں کا شکار ہیں اور بلو چستان کو ایک بار پھر اندھیرے کی طرف دھکیلاجا رہا ہے بلو چستان میں ڈیجیٹل مر دم شماری کو اصل حالت میں بحال کیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ بلو چستان کے پشتو ن اور بلوچ کی آبا دی پر ناجائز اور ناروا کٹ لگایا گیا جو کسی بھی صورت نا قابل قبول ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں