صوبائی حکومت ایرانی اشیا کی اسمگلنگ کے بجائے منشیات کے خاتمے کیلئے کردار ادا کرے، سردار کمال بنگلزئی
مستونگ (این این آئی) نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدر سابق ایم این اے سردار کمال خان بنگلزئی نے نیشنل پارٹی مستونگ کے عہدیداروں اور سینئر رہنماو¿ں کے ہمراہ سراوان پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مستونگ میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ ایک عرصے سے مستونگ میں امن و امان کی صورتحال مسلسل خراب ہورہی ہیں، حالات انتہائی گمبھیر ہوگئے ہیں، یہاں تک حالات خراب ہوگئے کہ دن دہاڑے چیھننے کے واقعات و دکانداروں کولوٹنے کے واقعات ہورہے ہیں لوگوں کی جان و مال محفوظ نہیں قتل و غارتگری چوری ڈکیتی عام ہورہا ہیں، انتظامیہ چوروں ڈکیتوں وقاتلوں اور منشیات کے مکروہ دہندے میں ملوث عناصر کے خلاف کاروائی کے بجائے اپنی تمام تر توانائی ایرانی مصنوعات کی پکڑھ دکڑھ پر صرف کررہی ہیں، اس تمام صورتحال میں نیشنل پارٹی کسی صورت خاموش تماشائی نہیں بیٹھ سکتی، اور نہ ہی اپنے عوام کو چوروں ڈکیتوں کے رحم و کرم پر چھوڑیگی،۔ہم آج انتظامیہ کو یاد دلانا چاہتے ہیکہ سٹی میں پولیس اور بی ایریا میں لیویز کو کہ آپ کا جو کام ہے وہ امن و امان کو برقرار رکھناہے نہ کہ ایرانی مصنوعات کے پیچے بھاگنااور اپنے تمام اسٹاف کو اس کے پیچے لگادیاہے، جو پٹرولنگ لوگوں کی حفاظت کیلئے ہونی چائیے وہ پٹرولنگ ایرانی مصنوعات کو پکڑنے کیلئے ہورہی ہے اور ان سے پیسے و بتہ لے کر چھوڑا جارہاہیں، جو کہ یقینا امن و امان کے کام کو چھوڑنے سے خلل آجاتاہے، اور بدقسمتی ہیکہ تیزی کے ساتھ حالات خراب ہوتے جارہے ہیں جو حالات 2013میں تھے اب پھر وہی حالات نظر آرہے ہیں، کوئی شخص مارا جاتاہےتو انتظامیہ کے لوگ آکر ان کے لواحقین کو تسلی دے چلے جاتے ہیں اور کوئی گرفتاری نہیں ہوتی ہے، گرفتاری ہونی چائیے ، اور ملزم کے بارے حقائق کو سامنے لانا چائیے مگر آج تک لیویز اور پولیس سے ہم نے نہیں سنا کہ گرفتاری ہوئی ہے اور اگر آپ نے پکڑھے ہے تو میرے پریس کانفرنس کے بعد آپ کو پریس کانفرنس کرناچائیےاور لوگوں کے سامنے اپنے پرفارمینس دکھانا چائیے کہ آپ نے کیا کیا،،، سردار کمال خان بنگلزئی نے کہاکہ منشیات ناسور ہے معاشرے کا اور معاشرے کو آہستہ آہستہ کھوکھلا کررہی ہیں، مستونگ میں کچھ ایریاز ہے جیسے کہ ولی خان کے ایریا میں جہاں منشیات کا کاروبار ہورہا اور لیویز تھانے کےاحاطہ میں یہ سب چل رہاہیں،اور یہ انتظامیہ کام ہیکہ انہیں روکھیں اور کاروائی کریں، انھوں نے کہاکہ منشیات کے خلاف آواز اٹھانے پر کچھ لوگوں کو ٹارگٹ بھی کیاگیا ہے، انتظامیہ کو بخوبی معلوم ہیکہ کون چور ہے کون ڈکیت اور کون منشیات فروش ہے مگر بدبختی یہ پے کہ ان کے پیچھے انکے مفادات ہے اور ہر چیز میں بتہ لینا اور معاشرے کو افراتفری و بدبختی کی طرف دھکیلنا یہ ایک ٹرینڈ بن چکاہیں، اس ٹرینڈ کو ختم ہونا چاہئے۔سردار کمال خان بنگلزئی نے کہاکہ میں نیشنل پارٹی کی طرف سے اپنے دوستوں اور تمام پارٹیوں کی طرف سے انتظامیہ کو متنبہ کرتا ہوں کہ وہ اپنا کام کریں اور لوگوں میں جو بےچینی، بے سکونی اور جو پریشانی پہلی ہوئی ہے وہ سب انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے ہے، میں سختی سے متنبہ کرتا ہوں کہ انتظامیہ اپنے فرائض کو سمجھ لے اور اپنے فرائض کو پوری کریں، اگر آپ اس طرح نہیں کرینگے اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اتنا بڑھا احتجاج ہوگا جس کا آپ تصور بھی نہیں کرسکیں گے، اور آج کی پریس کانفرنس اور نیشنل پارٹی کے توسط یہ آپ کو کہتاہوں کہ آپ اپنی زمہ داریوں کو سنبھال لیں تاکہ فوری طور پر لوگوں کو ریلیف ملےاور جو عوام کو پریشانیاں ہے وہ دور ہو، اگر آپ نے اپنی زمہ داری نہیں سنھبالا تو زبردست احتجاج کرینگے۔


