کوئی گولے پھینکے گا تو ہم پھول پیش نہیں کریں گے، اقتدار کے خواہشمند بلوچوں کے خیر خواہ نہیں، جھالاوان عوامی پینل

کوئٹہ (آن لائن) جھالاوان عوامی پینل کے مرکزی رہنماءندیم الرحمان بلوچ نے کہا کہ پانچ سال تک وفاقی اور صوبائی حکومت کے ساتھ ملکر اقتدار کے مزے لینے والے ایک بار پھر وڈھ کے حالات کو خراب کرکے بلوچستان میں آنے والے انتخابات کے لئے جلسے ، جلوسوں کے ذریعے تیاری کررہے ہیں انہیں عوام کے مسائل اور مشکلات سے کوئی سروکار نہیں انہیں صرف اپنے مفادات سے غرض ہے۔ حکومت سمیت دیگر چار وفود نے وڈھ کے دورے کرکے حالات کی بہتری میں وہ کردار کرنے کی کوشش کی بار آور ثابت نہ ہوسکیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ ہفتہ کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت بلوچستان کو بند گلی کی طرف دھکیل کر دلدل میں ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے جھالاوان عوامی پینل کے رہنماﺅں نے روز اول سے لیکر آج تک بلوچستان اور پاکستان کی حفاظت کے لئے اپنے سروں کے نذرانے پیش کئے ہیں لیکن اصولوں پاکستان کی سا لمیت پر آنچ نہیں آنے دی ۔ اقتدار کی سڑھیوں پر چڑھنے کے لئے لوگوں کے جان و مال کو داﺅ پر لگانے والے بلوچستان اور بلوچ عوام کے خیر خواہ نہیں بلکہ انہیں اپنے مفادات سے سروکار ہے۔ وڈھ کے حالات کو خراب کرکے صوبے میں جلسے جلوس، کارنر میٹنگز کے ذریعے آنے والے الیکشن کی تیاریاں کررہے ہیں اور دوسری طرف وڈھ میں حالات کی خرابی کا رونا رو رہے ہیں جوکہ وڈھ کے حالات کو خراب کرنے میں ان کا ہاتھ ہے۔ ایک سازش کے تحت حالات کو خراب کیا جارہا ہے تاکہ اپنی سیاست کو چمکا کر دوبارہ اقتدار کی تگ و دو کررہے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں اربوں روپے فنڈز لیکر حکومت کے مزے لوٹنے کے بعد پھر دوبارہ سے اقتدار میں آنا چاہتے ہیں۔ بی این پی کے سربراہ نے خود لشکر کشی شروع کی ہم تو اپنے دفاع میں کھڑے ہیں اگر کوئی گولے پھینکے گا تو ہم انہیں پھول پیش نہیں کریں گے اپنے دفاع کے لئے جواب دیں گے۔ قائد جھالاوان عوامی پینل کو مٹانے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ساجد ترین حقائق سے بے خبر ہے وہ سردار کے شکنجے میں آکر غلط بیانی کررہے ہیں ہم انہیں وڈھ کے حالات کے بارے مناظر کا چیلنج دیتے ہیں کہ وہ آئیں اور سامنے بیٹھ کر بات کریں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چیف آف ساراوان سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی مصالحتی جرگے کے ذریعے وڈھ آئے اور دونوں فریقین سے ملے تھے اور جنگ بندی کرائی گئی تھی جس پر دوسرے فریق نہیں اپنی زبان کی پاسداری نہیں کی اور دوبارہ لشکری کشی اور جنگ کا آغاز کیا ہے اور حکومت ، علماءکرام سمیت دیگر آنے والے وفود نے بھی دونوں فریقین سے ملاقاتیں کرکے حالات کی بہتری کی کوشش کی لیکن بار آور ثابت نہ ہوسکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں