جامعات کو درپیش مالی مسائل کے حل کیلئے بلوچستان حکومت نے ایک ارب 20 کروڑ روپے جاری کردیے

کوئٹہ (آن لائن) بلوچستان حکومت نے صوبے کی یونیورسٹی کی مالی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے صوبائی وزیر خزانہ و مال نے جامعات کی درخواست پر 1 ارب 20 کروڑ روپے ریلیز کردیئے اور یقین دہانی کرائی ہے کہ وفاق سے مزید فنڈز ملنے کے بعد ان اداروں کی مالی اور دیگر مشکلات سمیت مسائل کے حل کے لئے فنڈز دیئے جائیں۔ نگران وزیر اعلی بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی نے نگران صوبائی وزیر خزانہ و مال امجد رشید کو ہدایت کی تھی کہ وہ بلوچستان کی جامعات کو درپیش مالی مشکلات اور مسائل کے حل کے لئے ایک مربوط پالیسی ترتیب دیں تاکہ حکومت اپنے دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اساتذہ کی مالی مشکلات کو دور کرکے ان کی تنخواہوں کی ادائیگی کو یقینی بناتے ہوئے جامعہ کی مالی معاونت کرسکے۔ جس پر صوبائی وزیر خزانہ کی مال کی جانب سے ساڑھے 4ارب روپے کی ڈیمانڈ کی گئی تھی جس پر وزیر اعلی بلوچستان نے ایک ارب 20 کروڑ روپے کے فنڈز فوری طور پر ریلیز کردیئے ہیں تاکہ جامعات کی مالی مشکلات اور اساتذہ کو تنخواہوں کی فوری ادائیگی کو یقینی بنایا جاسکے۔ اساتذہ کو مالی مشکلات سے نجات دلاکر ہی ان کی صلاحیتوں سے صوبے کے نوجوانوں کو اعلی تعلیم کے حصول کے لئے بہتر کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کیا جاسکتا ہے انہوں نے تمام جامعات کے سربراہوں اور اساتذہ کرام سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے اپنے فرائض کو احسن طریقے سے نبھاتے ہوئے نوجوانوں کو تعلیم سے روشناس کرائیں کیونکہ بلوچستان پہلے تعلیمی حوالے سے پسماندہ ہے۔ اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کو اعلی تعلیم کے حصول کے لئے اپنی صلاحیتوں کو بروئے لاتے ہوئے ان کو تعلیم دیں تاکہ اعلی تعلیم حاصل کرکے دیگر نوجوانوں کا تعلیمی میدان میں مقابلہ کرسکیں۔ صوبے کے 90 فیصد نوجوان غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں ان کے والدین اپنا پیٹ کاٹ کر بچوں کو اعلی تعلیم کے ان اداروں تک پہنچاتے ہیں اب اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ انہیں جدید دور اور اعلی تعلیم کے حصول میں اپنی ذمہ داری پوری کرکے اس قابل بنائیں کہ وہ اعلی تعلیم مکمل کرکے ملک اور قوم کی باگ دوڑ سنبھالنے میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ کیونکہ جب نوجوان نسل تعلیم یافتہ ہوگی تو ہمارا معاشرہ بہتر ہوگا کیونکہ اپنی ذمہ داری کو پورا کرکے اعلی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آگے بڑھ کر دنیا کا مقابلہ کرسکتے ہیں کوئی بھی تعلیم کے حصول کے بغیر ترقی نہیں کرسکتی صوبائی وزیر خزانہ و مال امجد رشید کا کہنا تھا کہ وزیر اعلی بلوچستان میر علی مردان ڈومکی اور صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تعلیمی اداروں کو مالی مسائل سے چھٹکارا دلائیں اس لئے پہلے مرحلے میں ان مسائل کے حل کو یقینی بنایا ہے اور وزیر اعلی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ حکومت کے پاس اتنے ہی فنڈز تھے جو ہم نے پہلے مرحلے میں ریلیز کردیئے ہیں وفاق سے مزید فنڈز ملنے کے بعد دوسرے مرحلے میں ان کو مزید فنڈز جاری کریں گے تاکہ ان کی مالی اور دیگر مشکلات کو دور اور ان کی ضروریات کو پورا کیا جاسکے۔ کیونکہ اساتذہ کو ان کی تنخواہ کی عدم فراہمی اور جامعات کی مالی مشکلات کی وجہ سے اس کا خمیازہ نوجوانوں کو تعلیم کے حصول میں رکاوٹ کی صورت میں برداشت کرنا پڑتا ہے لیکن ہم نے نوجوان نسل کے مستقبل کو بہتر بنانا ہے اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ تعلیم ہی نوجوانوں کے مستقبل کو سنوارتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں