کوئٹہ تا چمن ریلوے ٹریک پر اسٹیشن کی عمارتوں کا انہدام اور اراضی کی فروخت مجرمانہ عمل ہے، اے این پی

کوئٹہ (یو این اے) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی بیان میں تاریخی ریلوے سٹیشن بوستان کی زبوں حالی اور اسے غیر فعال بنانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت کوئٹہ بوستان تا چمن ریلوے ٹریک اور اس پر قائم تاریخی سٹیشنز اور عمارات کو منہدم کرنے اسے اونے پونے داموں نیلام کرنے کیلئے مجرمانہ اور عوام دشمن عملیات روبہ عمل ہے جس سے نہ صرف عام عوام سستے اور معیاری سفر سے محروم ہو جائینگے بلکہ ان ریلوے سٹیشنوں میں برسر روزگار غریب سرکاری ملازم بھی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے جس سے بےروزگاری مزید بڑھے گی حکومت عوام الناس کو روزگار دینے کے بجائے الٹا ان سے روزگار چھیننے پر تلی ہوئی ہے جو کسی صورت ملک کے مفاد میں نہیں رہیگا عوامی نیشنل پارٹی تمام سیاسی جماعتوں بوستان اولسی کمیٹی اور سول سوسائٹی کیساتھ مل کر اس عوام دشمن اقدام کیخلاف بھر پور آواز اٹھائیگی عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی دفتر باچاخان مرکز سے جاری کردہ صوبائی مذمتی بیان میں کہا گیا کہ نگران وزیراعظم، وفاقی حکومت اور محکمہ ریلوے تاریخی بوستان ریلوے سٹیشن کی زبوں حالی اور کرپٹ مافیا کی اس تاریخی سٹیشن کی بندش و املاک کی نیلامی کی نوٹس لیکر مافیا کو لگام دیں بیان میں کہا گیا کہ انگریز دور میں بچھائی گئی تاریخی بوستان تا ژوب ریلوے لائن جو 1917 سے 1927 تک فعال تھا 2007 میں پاکستان ریلوے کی بدعنوان مافیا ملکر اس تاریخی 294 کلومیٹر ریلوے لائن کو اونے پونے قیمت نیلام کردی علاہ ازیں 2016 میں اسی سٹیشن پر موجود 70 لوکو میں سے 35کو نیلام کیا گیا 2017 میں باقی ماندہ ڈبوں کے دروازے سیٹس نیلام کئے گئے اب بچھا کچھا تعمیر کو بھی نیلام کرنے کے لئے پر تول رہے ہیں جس کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائیگا اس سلسلے میں آل پارٹیز، بوستان اولسی کمیٹی، اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر کرپٹ ریلوے حکام اور ٹھیکیدار مافیا کے خلاف بھر پور آواز اٹھایا جائیگا اس سلسلے میں ہر اس احتجاج اور کاوش میں برابر برابر شامل رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں