قبائلی دشمنیوں کے خاتمے تک بلوچستان ترقی نہیں کرسکتا، کچھی میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس ہے، کوئٹہ بار
کوئٹہ(یو این اے )کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری چنگیز حئی بلوچ ایڈووکیٹ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ دونوں فریقین کی جانب سے قیمتی جانیں ضائع ہوئیں ہیں قیمتی جانوں کے پر دلی افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور انتظامیہ کی جانب سے کوئی قابل قدر کاوشیں نہیں کی گئیں جس کی وجہ سے اب تک قیمتی جانیں کھو چکے ہیں انتظامیہ کی جانب سے جس طرح کے عملی اقدامات کرنے چاہیئے تھے وہ انتظامیہ نے نہیں کیئے ہیں۔ جس کی وجہ سے دونوں فریقین کی قیمتی جانوں کا ضیاع ہا ہے۔ دونوں فریقین سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ مل بیٹھ کر اپنے تمام معاملات حل کر لیں۔نصیر آباد اور بلوچستان کے جتنے بھی قبائلی عمائدین ہیں ان کی خاموشی بھی سوالیہ نشان ہے۔ ہمارے بلوچستان میں اپنی روایات ہیں ہمارا اپنا کلچر ہے بڑے سے بڑے مسئلے بھی حل ہوئے ہیں لیکن بد قسمتی سے کچھی کے معاملے پے تمام دیگر جو قبائلی عمائدین ہیں ان کی خاموشی جو ہے سوالیہ نشان ہے۔ اور دونوں فریقین سے درخواست ہے کہ وہ اپنے معاملات کو مل بیٹھ کر حل کریں خون ریزی جو ہے اس مسئلے کا حل نہیں ہے دنیا کہا سے کہاں پہنچ گئی ہے لیکن ہم ابھی تک جو ہے ان معاملات میں پڑھے ہوئے ہیں اور بلوچستان کی بدقسمتی یہ ہے ہمیں اپنے ساحل وسائل اختیارات اور اپنی شناخت کیلئے ہم نے جدوجہد کرنی ہوگی۔ ہمارے لوگ دربدر ہیں ہمارے لوگ خوار ہیں اور ہمیں شعوری و سیاسی طور پر منعظم ہونا ہوگا۔ اس کے بعد جا کر پھر ہم اپنے قومی حقوق ہیں سیاسی حقوق ہیں اور ہمارے معاشی حقوق ہیں ان کو ہم کے سکتے ہیں ورنہ یہ قبائلی معملات میں الجھ کر پڑھنا یہ با حیثیت بلوچستان کے ہم آگے نہیں بڑھ سکتے ہیں ہم اپنی آنے والی نسلوں کیلئے صرف نفرت چھوڑ رہے ہیں آنے والی نسلوں کیلئے کوئی اچھی روایت چھوڑ کے ہم نہیں جا رہے ہیں ہم نے اپنے آنے والی نسلوں کیلئے بہت سی جدوجہد کرنی ہے بلوچستان کیلئے بلوچستان کی عوام کیلئے اور بلوچستان میں آنے والی نسلوں کے لیئے آج ہم بنیادی سہولیات سے محروم ہیں جب تک ہم سیاسی طور پر منعظم نہیں ہونگے جب تک ہم مشترکہ طور جدوجہد نہیں کریں گے یہ قبائلی معملات میں الجھ پڑھے تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی اور یہ حل نہیں ہے خون ریزی یہ لڑائی جھگڑا کسی مسئلے کا حل نہیں ہے اور یہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کیلئے کچھ نہیں کر رہے ہیں۔ حکمران طبقہ تو یہی چاہتا ہے کہ بلوچستان کی عوام آپس میں دست و گریباں ہوں اور ایک دوسرے کے ساتھ قبائلی لڑائی جھگڑوں میں مصروف ہوں تاکہ وہ بلوچستان کے وسائل کو آرام سے لوٹتے رہیں۔ اور اس بات ادراک تو ہمیں کرنا چاہیئے اور یہاں پے سیاسی عمائدین سے بھی گزارش کی جاتی ہے وہ کچھی کے معاملے میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں تاکہ مزید قیمتی جانوں کے ضیاع سے بچ سکیں


