اعجاز بلوچ کا جعلی مقابلے میں مارا جانا ہمارے خدشات کو تقویت دیتا ہے ،بلوچ یکجہتی کمیٹی
کوئٹہ ( پ ر) بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ترجمان نے منگچر سے لاپتہ نوجوان فٹ بالر اعجاز بلوچ کی جبری گمشدگی اور بعدازاں انہیں کھٹان خضدار میں فیک انکاو¿نٹر میں نشانہ بنانا ہمارے ان خدشات کی عکاسی کرتا ہے عام بلوچ کو جبری گمشدگی کا نشانہ بناکر انہیں قتل کیا جائے۔ اعجاز سمیت درجنوں ایسے افراد کو اب تک فیک انکاو¿نٹر میں نشانہ بنا چکی ہے جن کی جبری گمشدگی کے چشم دید گواہ موجود ہیں لیکن یہ قتل و غارت ایک منصوبے اور حکمت عملی کے تحت ہو رہی ہے جو افسوسناک ہے۔ اعجاز بلوچ کو24 اگست ان کے گھر سے رات گئے دو بجے چادر و چاردیواری کی پامالی کرتے ہوئے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا تھا جن کی جبری گمشدگی کی رپورٹ میڈیا میں بھی شائع ہوئی تھی لیکن انتہائی بےبنیاد جھوٹ بناکر انہیں فیک انکاو¿نٹر میں نشانہ بنایا گیا۔ ترجمان نے کہا کہ جہاں ایک طرف فورسز بلوچستان میں اعجاز جیسے نوجوانوں کو فیک انکاو¿نٹر میں نشانہ بنانے اور ان کے قتل و اغوائ میں مصروف ہیں وہی دوسری جانب بلوچستان میں معصوم بچیاں تک محفوظ نہیں ہیں۔ بلوچ سماج جہاں کسی بھی بلوچ خواتین کے ساتھ بدتمیزی بھی سنگین جرم کے زمرے میں آتا ہے اب وہاں لاقانونیت اور باہر سے لائی گئی ذہنیت و نفسیات کے سبب ایسے دلخراش واقعات رونماء ہو رہے ہیں جن کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ 8 سالی حمیرہ کو جس بےدردی سے لاپتہ کرنا، ا±س معصوم پھول کے ساتھ زیادتی کرنا اور انہیں مارنا یزیدیت کی انتہا ہے جو کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے۔


