کیرتھر کینال کی شاخوں اور ٹیل میں پانی کی قلت کا ذمہ دار محکمہ آبپاشی ہے، عوامی حلقے
اوستا محمد(آن لائن)محکمہ ایری گیشن جان بوجھ کرکھیر تھر کینال کے ذیلی شاخوں کو پانی نہیں دیتے تاکہ زمیندار کاشتکار مالی بحران کا شکار ہوں رشوت نہ دینے پر پانی نہیں لیتے سندھ سے جبکہ دیاریا میں پانی اتنا زیادہ ہے جو سمندر میں ضائع ہو رہا ہے تفصیلات کے مطابق کھیر تھر کینال کے ذیلی شاخوں کے کاشتکاروں اور زمینداروں نے شکایت کی کہ تحصیل گنداخہ اور مضافاتی دیہاتوں میں گندم کی طرح چاولوں کو ملنے والا آخری پانی بھی بند ایریگیشن عملہ بلکل ناکام ہوچکا ہے XEN اورSDO ایک پالیسی کے تحت کوئٹہ سے لوٹنے کے لیے منگوائے جاتے ہیں ہمارے ہاں جونیئر افسران کو عہدے سے نواز کرعوام کو رسواکیاجاتا ہے اور عوام کا پانی بیچ کر سیاستدان افسران اپنا جیب بھرتے ہیں اور ساتھ پروموشن بھی حاصل کرتے ہیں اگر صوبائی حکومت انکے خلاف کاروائی کرتی تو اج یہ حالات نہیں ہوتے اس موسم میں شالی کی فصلوں کو پانی نہ دینا سمجھ سے باہر ہے جب کہ ہر جگہ نہری پانی بہت ہے افسوس کی بات پانی وافر مقدار میں ہونے کے باوجود فصلیں جل رہی ہیں پینے کا پانی نہیں مل رہا اخراس طرح کی حکمت عملی بنا کرگزشتہ کئی سالوں سے عوام کو معاشی کمزور کیا جارہا ہےاور ایسے حالات پیدا کروائے یا کیے جا رہے ہیں وقت آنے پر ان سب کو بے نقاب کریں گے۔


