ہمارے ملت کی سیاسی ، معاشی اور ثقافتی و قومی محکومی ثابت کرتی ہے، خوشحال خان کاکڑ
کوئٹہ(یو این اے )پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ پشتونخوا وطن پر مسلط دہشت گردی اور اس کے معدنی وسائل پر جاری قبضے و لوٹ مار اور ہر شعبہ زندگی میں پشتون افغان عوام کے ساتھ بدترین امتیازی سلوک ہمارے ملت کی سیاسی ، معاشی اور ثقافتی و قومی محکومی ثابت کرتی ہے۔ ایک قوم کی استعماری بالادستی کے خاتمے اور قومی واک و اختیار کے حصول کے بغیر ترقی و خوشحالی اور پر امن زندگی کا حصول ناممکن ہے۔ وطن دوست سیاست اور سیاسی جدوجہد اور منظم تنظیم کے ذریعے ہی ملت کو تمام مسائل سے نجات دلا سکتے ہیں۔ پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کی مسلسل تنظیمی فعالیت اور پارٹی کانفرنسوں کا انعقاد قابل تحسین ہے۔ وہ ہزار گنجی سریاب علاقائی کانفرنس کے کھلے سیشن سے خطاب کر رہے تھے جس سے پارٹی رہنماں محمد عیسی روشان ، سابق ایم پی اے نصر اللہ خان زیرے اور علاقائی سیکرٹری عبید اللہ بڑیچ نے بھی خطاب کیا۔ جبکہ اس موقع پر ہزار گنجی میاں غنڈی اور احمد خان زئی سریاب کے نام سے دو علاقائی یونٹوں کا قیام اور اس کے علاقائی ایگزیکٹیو کے انتخاب عمل میں لائے گئے جس سے پارٹی رہنماں نصر اللہ خان زیرے اور عبد الرزاق بڑیچ نے حلف لیا۔ پارٹی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پشتونخوا میپ اپنے ملت کی نمائندہ پارٹی ہے اور ہمارے عوام کو پارٹی سے جو امیدیں وابستہ ہے انھیں پورا کرتے ہوئے پارٹی تمام عوام کی بلا تفریق اور بلا تمیز خدمت جاری رکھے گی اور پشتونخوا وطن میں آباد تمام اقوام و عوام کے حقوق کو برابری کی بنیاد پر ہر ایک کا حق مانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پشتون افغان ملت کو ہر شعبہ زندگی میں اذیت ناک صورتحال کا سامنا ہے۔ بدامنی ، لاقانونیت ، کاروبار کی بندش ، زراعت کی بربادی ، بدترین مہنگائی ، بیروزگاری ، مسافرانہ زندگی ، کسٹم کے ناروا چھاپے ، واپڈا اور پولیس کی عوام دشمن آپریشن ، افغان عوام کے خلاف ناروا غیر قانونی انتقامی کارروائیاں ، علاج و معالجہ ، تعلیم کی سہولیات سے محرومی جیسے حالت نے وبا کی شکل اختیار کر لی ہے اور پشتون افغان ملت کی قومی وجود اور قومی شناخت کی بقا اور پناہ کی صورتحال بن چکی ہے اور پشتو زبان اور پشتون لباس کو دہشت گردی کا نام دے کر دن رات پشتونوں کی نسل کشی جاری ہے اور اس ملک میں حیوانات کے حقوق کو تسلیم کیا جاتا ہے لیکن پشتون افغان ملت کو قومی حقوق و اختیارات سے محروم رکھ کر ان کے سر و مال کا تحفظ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ کے نام پر سیاست کو بدنام کرنے اور سیاسی جمہوری جدوجہد کرتے ہوئے قومی حقوق و اختیارات کے حصول سے دستبردار ہونا وطن دوست سیاست نہیں اور ووٹ کے معنی صرف چند ترقیاتی سکیمات نہیں بلکہ سیاست خدمت اور عبادت ہے اور سیاسی جمہوری جدوجہد کے ذریعے پشتونخوا وطن کی وحدت ، قومی متحدہ صوبے کے حصول اور اپنے قومی بیانیے کی بنیاد پر اس منزل اور ان قومی اہداف کا حصول ہے جو روز اول سے پشتون قومی تحریک کے قومی اور اجتماعی اہداف رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان سنگین حالات میں پشتون افغان ملت کے ہر طبقے کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ انفرادیت کی بجائے قومی اتحاد و اتفاق اور قومی بیانیے کو ترجیح دے کر جاری جدوجہد کا حصہ بنے اور دہشت گردی کے خاتمے اور قومی معدنی وسائل کے کنٹرول حاصل کرنے کے مطالبے کو تمام ملت کا مطالبہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کی جانب سے پارٹی بحران کے باوجود دن رات انتھک محنت اور منظم پروگراموں کا انعقاد قابل تحسین اور ہمارے غیور عوام کے اعتماد کا مظہر ہے اور پشتونخوا وطن میں قومی شعور ، قومی دلیری ، سیاسی بیداری کی لہر ، پشتونخوا میپ کے قومی اکابرین ، ملی شہدا کی نظریاتی اور قربانیوں سے لبریز جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ اور کارکنوں نے پارٹی نظم وضبط کو مزید مضبوط کرتے ہوئے جاری جدوجہد میں مزید تیزی پیدا کرنی ہوگی۔


