17 سال بعد اہلسنت کو پھر لہولہان کر دیا گیا،ثروت اعجاز قادری
کوئٹہ/ کراچی (آن لائن)سانحہ مستونگ نگراں حکومت کے منہ پر بد نما داغ ہے 17 سال بعد اہلسنت کو پھر لہولہان کر دیا گیا۔ ہمارا قصور کیا ہے۔اگر حضور سے محبت کرنا جرم ہے اگر ملک سے محبت کرنا جرم ہے تو یہ جرم زندگی کی آخری سانس تک کرتے رہیں گے۔ان خیالات کا اظہار پاکستان سنی تحریک کے مرکزی صدرانجینئر محمد ثروت اعجاز قادری اور سیکریٹری جنرل علامہ بلال سلیم قادری نے گیلانی ہاس میں پر ہجوم پریس کانفرنس اور علما کرام ومعززین کی موجودگی میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر سنئیر رہنما محمد خالدقادری،الحاج گلشن الہی،محمد عمران سہروردی و دیگر بھی موجود تھے انہوں نے کہا کہ 12 ربیع الاول کے دن دہشتگردوں نے ہمارے سینے چھنی کر دیئے۔ہم اعلی حضرت امام احمد رضا کے مشن اور قائد سنی تحریک کے مشن کو لے کر چل رہے ہیں۔کراچی تا خیبر اہلسنت کو ایک لڑی میں پرو دیا جائے کہ ہرسنی عاشق رسول کی تکلیف مشتر کہ ہو۔ سانحہ مستونگ کے قاتلوں دہشتگردوں اور انکے سر پرستوں کی گرفتاری اور کیفرکردار تک پہنچانے تک احتجاج جاری رہےگا۔حکومت کو دہشتگردوں سہولت کاروں کی گرفتاری کیلئے ایک ہفتہ کا الٹی میٹم دیاہے۔ حکومت پاکستان کا شہدا اور زخیموں کے لیے معاوضے کا اعلان نہ کرنا سوالیہ نشان ہے۔رہنما پاکستان سنی تحریک نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ملک میں بے روزگاری و معاشی استحکام کا واحد حل وقت پر ایکشن ہے۔پاکستان سنی تحریک الیکشن میں بھرپور حصہ لے گی۔حکومت عوام کورلیف و انصاف دینے میں مکمل طور پر نا کام ہو چکی ہے۔ پاکستان سنی تحریک 13 اکتوبر کو حیدرآباد کے جلسے میں آئندہ کےلائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔انہوں نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے ابھی تک شہدا اور زخمیوں کی مالی امداد نہ کرنا سوالیہ نشان ہے۔حکومت اہلسنت سے سوتیلے پن کا سلوک ختم کریں۔13 اکتوبرکو حیدرآباد میں منعقد ہونے والے عظیم الشان جانثاران مصطفی ایک نئی تاریخ رقم کرے گی وقت کی ضرورت ہے اہلسنت منتظم ہوکر اپنی طاقت کا لوہا منوائیں۔پاکستان سنی تحریک تمام علمائے اہلسنت اور عاشقان مصطفی سب ایک پلیٹ فارم پر موجود ہیں۔اگر حکومت نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے توپاکستان سنی تحریک اور علما کرام جلد ہی اپنے لائے عمل کا اعلان کریں گے۔


